حوثی باغیوں پر پابندیوں کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ president.gov.ua
Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن میں سعودی مداخلت کے بعد سے 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں منگل کو یمن کے حوثی باغیوں اور ان کے حامی رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق قرارداد پر رائے شماری ہو گی۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق اردن نے، جو یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن عزمِ طوفان میں سعودی عرب کا حصہ ہے، اپنی قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ باغی زیرِ قبضہ علاقے چھوڑ دیں۔

قرارداد میں یمنی باغیوں کو ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرنے پر بھی پابندی عائد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی اور ان کے حامی سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی کے اثاثے منجمد کرنے اور ان پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یمن کے سابق صدر عبداللہ صالح اور حوثی باغیوں کے متعدد رہنماؤں پر گذشتہ سال نومبر میں بھی اسی قسم کی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کی پہلی قرارداد ہو گی جس میں یمن میں سعودی عرب اور اس کے حامی خلیجی ممالک کی مداخلت کے بعد ووٹنگ کی جائے گی۔ تاہم خدشہ ہے کہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن روس اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دے گا۔

اس سے قبل اپنی قرارداد میں روس نے مطالبہ کیا تھا کہ سعودی عرب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یمن میں اپنی کارروائیاں عارضی طور پر بند کر دے اور کسی ایک نہیں بلکہ جنگ میں شامل دونوں فریقوں پر پابندیاں عائد کی جائیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں روس کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کا اجلاس بھی بلوایا گیا تھا تاہم وہ بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا۔ سعودی عرب کے ساتھ دس ممالک اس جنگ میں شامل ہیں۔

پاکستان کی پارلیمان نے مسئلے کے پرامن حل پر زور دیا ہے اور کہا گیا ہے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور وہاں موجود مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔

سعودی عرب نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ بات چیت میں پاکستان اور ترکی کی حکومتیں سفارتی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ حوثی باغیوں نے ملک کے بہت سے حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ عدن میں باغیوں اور حکومت کے حامیوں کے درمیان دست بدست لڑائی جاری ہے۔

ادھر امدادی اداروں نے جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے ادویات اور خوراک کی کمی کے بارے میں کئی روز پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اب تک اس جنگ میں 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سعودی اتحاد کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے 500 سے زائد باغیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

اسی بارے میں