پرل ہاربر کے ہلاک شدگان کی شناخت کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پرل ہاربر پر جاپان کے اچانک حملے میں 2400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پرل ہاربر پر جاپانی حملے میں ہلاک ہونے والے تقریباً 400 فوجیوں کی باقیات نکال کر ان کی شناخت کی جائے گی۔

یہ تمام افراد 1941 میں جاپانی تارپیڈو کا نشانہ بننے والے امریکی بحریہ کے جنگی بحری جہاز یو ایس ایس اوکلاہوما پر سوار تھے۔

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق ان سب کی باقیات اجتماعی طور پر ہوائی میں دفنا دی گئی تھیں اور اب فورینسک سائنس اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کی مدد سے ان کی شناخت کی کوشش کی جائے گی۔

پرل ہاربر پر جاپانی حملے نے امریکہ کو دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

یو ایس ایس اوکلاہوما ان متعدد امریکی بحری جہازوں میں سے تھا جنھیں سات دسمبر 1941 کو جاپانی آبدوزوں اور طیاروں نے نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے میں 2400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

محکمۂ دفاع کے حکام کے مطابق ان میں سے 400 افراد کی شناخت کے لیے ان کے اہلِ خانہ کے ڈی این اے سے بھی مدد لی جائے گی۔

امریکہ کے نائب وزیرِ دفاع روبرٹ ورک نے ایک بیان میں کہا کہ ’اگرچہ سب خاندانوں کو تو انفرادی طور پر شناخت شدہ باقیات نہیں مل سکیں گی لیکن ہم زیادہ سے زیادہ خاندانوں کو اس سلسلے میں سکون دینے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 400 افراد کی شناخت کے لیے ان کے اہلِ خانہ کے ڈی این اے سے بھی مدد لی جائے گی

اب تک یو ایس ایس اوکلاہوما پر سوار 429 ملاحوں میں سے صرف 35 کی ہی باقیات کی شناخت ہو پائی ہے۔

بقیہ افراد کی باقیات جنھیں 1942 سے 1944 کے دوران سمندر سے نکالا گیا تھا، تابوتوں میں بند کر کے نامعلوم قرار دے کر ہوائی کے قومی قبرستان میں دفنا دی گئی تھیں۔

ایسے ہی افراد میں سے ایک ایڈون ہاپکنز کے رشتہ دار ٹام گیری نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کے خاندان نے ایڈون کی آخری رسومات مناسب طریقے سے ادا کرنے کے لیے 70 برس انتظار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں قومی قبرستان میں دفن ہونا ان کے کزن کے لیے اعزاز ہے لیکن ’19 سال کی عمر میں جان دینے والے لڑکے کو ایک اجتماعی قبر میں نامعلوم قرار دے کر دفن کیا جانا صحیح نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں