اور تباہی کیا ہوتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اب تک 2,20,000 شامی آپسی لڑائی میں ہلاک اور 15 لاکھ زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سنی، شیعہ، علوی، کرد سب شامل ہیں

سب کی میڈیائی نظریں یمن پر ہیں، اس سے پہلے غزہ پر تھیں، اس سے بھی پہلے لیبیا پر اور اس سے بھی پہلے مصر پر لیکن ان سب المیوں کو اگر ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے تب بھی شام کے ساتھ پچھلے پانچ برس میں جو کچھ ہوگیا اس کا وزن بھاری ہے۔

شام کا جتنا بڑا المیہ اتنی ہی کم اس کی شنوائی اور شنوائی بھی بس ٹکڑوں میں۔ کسی کو صرف دولتِ اسلامیہ دکھائی دے رہی ہے، کسی کو بس بشار الاسد نظر آ رہا ہے، کوئی شامی آثارِ قدیمہ کی بربادی پر نمناک ہے تو کوئی بیرونی مداخلت پر فوکس کیے بیٹھا ہے تو کوئی سنی، شیعہ، علوی کرد میں پھنسا ہوا ہے ۔

مگر اس ملک کے انسانوں پر اب تک کیا گذرگئی اس کے ٹکڑے جمع کرکے ایک مجموعی قیامت مصور کرنے سے شاید کسی کو یوں دلچسپی نہیں کیونکہ شام سفاکی کی بساط پر خود غرض کھلاڑیوں کے لیے ایک مہرے سے زیادہ کچھ نہیں اور مہرہ بھلا پوری بساط کے برابر توجہ کیوں حاصل کرے؟

اب سے چار برس ایک ماہ پہلے جب جنوبی شام کے شہر دورہ میں مقامی لوگوں نے سرکاری دستوں کے ہاتھوں کچھ نوجوانوں کی ہلاکت پر جلوس نکالا تو ان کے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا کہ وہ ڈائنا مائیٹ کے ڈھیر پر بیٹھے فلیتے کو آگ لگا رہے ہیں، وہ دن اور آج کا دن شام زندہ درگور ہوگیا۔

Image caption شامی شہریوں پر اس عرصے میں کیمیائی ہتھیاروں، کلسٹر اور بیرل بم، سکڈ میزائیل، ٹینک، توپیں، خود کش بمبار، گلا کاٹ خنجر سمیت کونسا جدید و قدیم ہتھیار ہے جو نہیں آزمایا گیا؟

اب تک 2,20,000 شامی آپسی لڑائی میں ہلاک اور 15 لاکھ زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سنی، شیعہ، علوی، کرد سب شامل ہیں۔

ان شہریوں پر اس عرصے میں کیمیائی ہتھیاروں، کلسٹر اور بیرل بم، سکڈ میزائیل، ٹینک، توپیں، خود کش بمبار، گلا کاٹ خنجر سمیت کونسا جدید و قدیم ہتھیار ہے جو نہیں آزمایا گیا؟

ایک ہزار سے زائد طبی ماہرین کی ہلاکت کے سبب 70 فیصد ڈاکٹر فرار ہوچکے ہیں۔ 50 فیصد ہسپتال اور چھوٹے طبی مراکز مٹ چکے ہیں۔ حلب شہر میں خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے 800 ڈاکٹر تھے، آج صرف تین ہیں، خود حلب شہر بھی کہاں۔

ملک کی 22 ملین آبادی میں سے 11.50 ملین بے گھر ہوگئی۔ ان میں 7.5 ملین کو جان بچانے کے لیے اپنا گھر یا شہر چھوڑنا پڑا اور چار ملین سے زائد کو ترکی، اردن، عراق، لبنان اور مصر میں پناہ لینا پڑی۔

(اسرائیل کے ہاتھوں عشروں پہلے دربدر ہونے والے وہ پانچ لاکھ فلسطینی بھی اس بے خانمائی در بے خانمائی کا حصہ ہیں۔ خانہ جنگی سے پہلے دمشق کے مضافات میں فلسطینوں کے سب سے بڑے کیمپ یرموک میں ڈیڑھ لاکھ فلسطینی رہتے تھے، آج 18 ہزار زندہ ڈھانچے باقی ہیں اور دولتِ اسلامیہ اور اسد کے فوجی دستوں کے درمیان لڑائی کا چارہ ہیں)۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption ملک کی 22 ملین آبادی میں سے 11.50 ملین بے گھر ہوگئی۔ ان میں 7.5 ملین کو جان بچانے کے لیے اپنا گھر یا شہر چھوڑنا پڑا اور چار ملین سے زائد کو ترکی، اردن، عراق، لبنان اور مصر میں پناہ لینا پڑی

یہ بتانا تو ضروری نہیں کہ ان میں آدھے بچے اور عورتیں ہیں۔ 30,000 میں سے پانچ ہزار سکول بالکل برباد ہوگئے۔ 51 فیصد شامی بچوں نے عرصے سے سکول نہیں دیکھا کیونکہ سکول کی عمارتیں یا تو دربدروں کو پناہ دے لیں یا پھر تعلیم دے لیں۔ حلب اور الرقہ میں پانچ برس کی عمر کے 90 فیصد بچے یہی نہیں جانتے کہ تعلیم کس پرندے کا نام ہے؟

خانہ جنگی سے پہلے شام خوراک میں خودکفیل تھا۔ آج 22 میں سے 12.5 ملین کو خوراک کے بحران کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے پانچ ماہ پہلے ان بدقسمت افراد کے لیے8.5 ارب ڈالر ہنگامی امداد کی اپیل کی تھی تاہم اب تک بمشکل آدھے پیسے جمع ہو پائے ہیں۔

خانہ جنگی سے پہلے 50 فیصد آبادی متوسط یا نیم متوسط تھی۔ آج 80 فیصد شامی خطِ غربت سے نیچے ہیں اور ان میں بھی 30 فیصد وہ ہیں جنھیں یہ نہیں پتہ کہ اگلا نوالہ کون دے گا؟ پچھلے پانچ برس میں شامی معیشت 45 فیصد تک سکڑ چکی ہے اور اب تک ریاست کو 202 ارب ڈالر کا معاشی چاقو لگ چکا ہے۔

یہ تباہی بڑی محنت سے لائی گئی ہے جو تحریک بشارالاسد کی آمریت سے نجات پانے کے لیے شروع ہوئی تھی وہ چند ماہ بعد ہی ہائی جیک ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption متحارب فریقوں کے درمیان جنیوا میں بات چیت کے اب تک دو ناکام دور ہو چکے ہیں

اب شام ہر طرف سے ہر ایک کے ہاتھوں ریپ ہو رہا ہے۔ کیا روس، کیا ایران، کیا لبنانی حزب اللہ، کیا امریکی سی آئی اے، برطانیہ، فرانس، ترکی، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، القاعدہ، پرائیویٹ فنانسرز اور لگ بھگ 100 ممالک سے ثوابِ جہاد لوٹنے والے 15 سے 22 ہزار دولتِ اسلامیہ کے جنگجؤوں سمیت سب شامل ہیں۔

کسی سرپنچ کو کوئی جلدی نہیں ہے پر کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ پہلے بشارالاسد کو چلتا کرنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ یا القاعدہ سے نمٹنا ہے۔

متحارب فریقوں کے درمیان جنیوا میں بات چیت کے اب تک دو ناکام دور ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے تین مصالحت کار اب تک تبدیل ہوچکے ہیں۔ بیرونی طاقتیں کئی گھوڑے بدل چکی ہیں مگر کسی ترکیب سے کوئی افاقہ نہیں۔ شام کی بطور ریاست کلینکل ڈیتھ ہوچکی پر آکسیجن ماسک ہٹانے کو بھی کوئی تیار نہیں۔ عالمی مردہ خانے میں پہلے ہی کئی لاشیں پڑی ہیں ایک اور سہی۔

ہاں تو یمن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھےگا آئیے اس پر بات کرتے ہیں۔ کیا ایران جوہری پروگرام سیمٹنے کے وعدے سے مکر تو نہیں جائےگا آئیے اس پے بات کرتے ہیں۔ کیوبا اور امریکہ کے تعلقات نارمل ہونے سے لاطینی امریکہ پر کیا اثرات پڑیں گے آئیے اس پے بات کرتے ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے حلقہ 246 کے ضمنی انتخاب میں کون جیت رہا ہے ایم کیو ایم ، جماعتِ اسلامی یا پھر تحریکِ انصاف آئیے اس پے بات کرتے ہیں۔

پاک چائنا اکنامک کاریڈور کب؟

اسی بارے میں