’الشباب اب کینیا میں جنگجو بھرتی کر رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کینیا کی حکومت نے ان نوجوانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے جو الشباب کا حصہ ہیں اور اب تائب ہو کر واپس آنا چاہتے ہیں

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب ہمسایہ ملک کینیا کے شمال مشرقی علاقوں میں جنگجو بھرتی کر رہی ہے۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق صرف ایک قصبے میں پولیس کے پاس 26 افراد کے لاپتہ ہونے کی درخواستیں اس خدشے کے ساتھ آئی ہیں کہ وہ شدت پسندوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔

الشباب نے دو ہفتے قبل کینیا میں ایک یونیورسٹی پر حملہ کر کے 150 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

گریسا میں ہونے والا یہ حملہ کینیا کی تاریخ میں شدت پسندوں کا مہلک ترین حملہ تھا اور ان حملہ آوروں میں سے ایک کینیا کا ہی شہری تھا۔

الشباب کی جانب سے کینیا میں شدت پسندوں کی بھرتی کو مشرقی افریقہ میں القاعدہ کی اس اتحادی تنظیم کی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا اشارہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔

بی بی سی کو اسیولو نامی قصبے سے تعلق رکھنے والے بہت سے ایسے نوجوانوں کا پتہ چلا ہے جو غائب ہوئے اور پھر انھوں نے اپنے اہلِ خانہ کو فون پر بتایا کہ وہ الشباب کا حصہ بن چکے ہیں۔

ان غائب شدہ افراد میں سے نصف کے قریب کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس میں لکھوائی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الشباب نے دو ہفتے قبل کینیا میں ایک یونیورسٹی پر حملہ کر کے 150 افراد کو ہلاک کر دیا تھا

اسیولو کے علاوہ کینیا کے دیگر علاقوں سے بھی ایسی ہی اطلاعات ملی ہیں۔

خیال رہے کہ کینیا کی حکومت نے ان نوجوانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے جو الشباب کا حصہ ہیں اور اب تائب ہو کر واپس آنا چاہتے ہیں۔

تاہم ملک کے اہم مسلمان رہنما شیخ عبدالہی صلوۃ نے خبردار کیا ہے کہ کینیا میں سکیورٹی فورسز پر عدم اعتماد ایسے افراد کی واپسی کو مشکل بنا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس، فوج اور خفیہ اداروں میں بدعنوانی کی وجہ سے الشباب کے خلاف کارروائیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تاہم کینیا کی حکومت نے ان الزامات کو اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

کینیا کی حکومت نے گریسا کے حملے کے بعد صومالیہ کی سرحد کے ساتھ ساتھ حفاظتی باڑ لگانے کا بھی آغاز کر دیا ہے۔

اسی بارے میں