’بحرین میں حکومت مخالف آوازوں کو کریک ڈاؤن کا سامنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایمنیسٹی کی رپورٹ میں گذشتہ برس کے دوران پولیس کی جانب سے بدسلوکی کے کئی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بحرین کی حکومت پر حقوقِ انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار برس قبل حکومت مخالف مظاہروں کے بعد شروع ہونے والا اصلاحات کا عمل ان خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم نے یہ بات اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے جو جمعرات کو جاری کی گئی ہے۔

79 صفحات کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں حکومت مخالف آوازوں کو شدید کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔

ایمنیسٹی کے مطابق جہاں بحرینی دارالحکومت میں مظاہروں پر پابندیاں عام ہیں وہیں حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے کارکنوں کو مسلسل پابندِ سلاسل کیا جا رہا ہے جہاں انھیں تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بحرین میں فروری 2011 میں ملک کے حکمران سنّی خاندان کے خلاف اکثریتی شیعہ آبادی کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور یہ مظاہرین مزید سیاسی حقوق دیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

بحرین نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فوج کی مدد سے ان مظاہروں کو کچل دیا تھا تاہم اس کے باوجود حکومت کے خلاف بےچینی ختم نہیں ہوئی تھی۔

اس حکومت مخالف تحریک کی تحقیقات کے بعد ملک کے سیاسی نظام کی ’اوور ہالنگ‘ اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے بدسلوکی کے معاملات کی تحقیقات کی سفارشات سامنے آئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بحرین میں فروری 2011 میں ملک کے حکمران سنّی خاندان کے خلاف اکثریتی شیعہ آبادی کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا

ان سفارشات کی روشنی میں بحرینی حکام نے کچھ اصلاحات کی ہیں اور وزارتِ داخلہ میں محتسب کا عہدہ بھی تخلیق کیا ہے جس کا کام پولیس کی بدسلوکی کی شکایات سننا ہے۔

تاہم ایمنیٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بحرینی حکومت کے اقدامات ناکافی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے تنظیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر سعید بومیدوہ نے کہا ہے کہ ’بحرینی حکام کی جانب سے دنیا کو دکھائی جانے والی ترقی اور اصلاح پسند مملکت کی شبیہ کے پیچھے ایک بدنما سچ پوشیدہ ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’حکومت مخالف تحریک کے آغاز کے چار سال بعد، بحرین میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے اختیارات کا غلط استعمال، عوام سے بدسلوکی اور ان پر دباؤ ڈالنے کا عمل عام ہے۔‘

بحرینی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بحرینی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے

ایمنیسٹی کی رپورٹ میں گذشتہ برس کے دوران پولیس کی جانب سے بدسلوکی کے کئی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں نامعلوم بحرینی باشندوں کے یہ دعوے بھی ہیں کہ ان پر پرندوں کو نشانہ بنانے والے چھرّے اور آنسو گیس کے شیل برسائے گئے۔

اس رپورٹ کے مرکزی محقق سعید حدیدی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایمنیسٹی کو بحرین میں گذشتہ برس مئی اور پھر رواں برس جنوری کے بعد تحقیقات کی اجازت دی گئی۔

ان کے مطابق اگرچہ یہ دونوں دورے پانچ دن پر محیط تھے لیکن اس دوران انھیں حکومتی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ حکومت مخالف کارکنوں تک بھی رسائی دی گئی۔

رپورٹ میں ایمنیسٹی نے بحرینی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عدلیہ میں اصلاحات کرے اور ’قانونی طور پر اظہارِ رائے کی آزادی کا حق استعمال کرنے والوں اور پرامن اجتماعات کرنے والوں کو‘ جیلوں سے رہا کرے۔

اسی بارے میں