انڈونیشیا میں اب دکانوں پر شراب نہیں ملے گی

Image caption حالیہ برسوں میں انڈونیشیا میں شراب کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

انڈونیشیا میں چھوٹی دکانوں پر شراب کی فروخت پر پابندی کے قانون پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

اس قانون کے تحت ملک میں شراب اب صرف سپر سٹوروں، ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکانوں پر فروخت کی جا سکے گی۔

انڈونیشیا میں 70 ہزار کے قریب دکانیں شراب فروخت نہیں کر سکیں گی۔

انڈونیشیا کی حکومت کے مطابق یہ پابندی ضروری تھی تاکہ مسلمانوں کے اکثریتی ملک میں نوجوانوں کو شراب سے بچایا جا سکے۔

تاہم ملک میں اس قانون پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ زیادہ تر تنقید سیاحتی انڈسٹری کی جانب سے ہو رہی ہے، اور خاص کر ہندو اکثریتی جزیرے بالی میں کی جا رہی ہے۔

بالی اور فائیو سٹار ہوٹل اس پابندی کے دائرے میں نہیں آئیں گے تاہم جزیرے کے ساحلوں پر دکاندار سیاحوں کو شراب فروخت نہیں کر سکیں گے۔

بالی کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں سیاحت کو نقصان پہنچے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈونیشیا میں اس قانون پر تنقید بھی کی جا رہی ہے

حکومت کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بالی کے کچھ ساحلوں کے دکانداروں کے لیے نئے قواعد و ضوابط بنائے جا سکتے ہیں تاہم ابھی یہ حتمی نہیں ہے۔

رواں سال کے شروع میں دو مذہبی جماعتوں نے ملک میں شراب پر مکمل پابندی کی تجویز پیش کی تھی۔

جکارتہ پوسٹ کے مطابق دونوں مذہبی جماعتوں کی تجویز کے مطابق ملک میں شراب کی تیاری، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پانچ سال تک قید کی سزا دی جانی چاہیے۔

رکن اسمبلی ابو حکیم نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مذہبی یا نظریاتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ خالصتاً قوم کے بچوں کا تحفظ ہے۔‘

انڈونیشیا میں مسلمان بڑی اکثریت میں ہیں اور یہاں گذشتہ کچھ عرصے سے شراب کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں