’روس مغربی پابندیوں کا فائدہ اٹھا سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ولادیی میر پوتن کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد روس کی آمدنی میں پہلی بار کمی آئی ہے

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ ان کا ملک مغربی پابندیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ خود انحصار ہو سکتا ہے۔

پوتن کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روس کو اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کاروباری رہنماؤں کو بتا دیا ہے کہ انھیں یوکرین کے بحران میں روس کے کردار کے بعد یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے فوری خاتمے کی کوئی امید نہیں ہے۔

روس کے صدر نے کہا: ’ہمیں اس صورتِ حال کو استعمال کرتے ہوئے نئی قسم کی ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ماسکو میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار سارا رینزفورڈ کا کہنا ہے کہ روسی صدر کے اس بیان سے ان کی مشکلات ظاہر ہوتی ہیں۔

خیال رہے کہ پوتن کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد روس کی آمدنی میں پہلی بار کمی آئی ہے اور 20 لاکھ افراد نے اس صورتِ حال کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

روسی صدر نے کہا کہ ملکی معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے دو یا اس سے کم برس درکار ہوں گے، تاہم صنعتی پیداوار شاید مزید سکڑ جائے۔

ولادی میر پوتن نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ روس کی زراعت ترقی کر رہی ہے اور مغربی کھانوں کی برآمدات کی جگہ لے رہی ہے۔

دوسری جانب جان نامی ایک روسی کسان نے ولادی میر پوتن کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’جو آپ کہہ رہے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے تو معاف کیجیے گا وہ سچ نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے پانچ بچے ہیں اور میں ان کے مستقبل کے بارے میں یقین دہانی چاہتا ہوں۔‘

کریملن کا کہنا ہے کہ روس کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر یوکرین میں اس کے کردار کے بارے اور ایران کے ساتھ روس کے تعلقات کے بارے میں سوالات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

روسی صدر اس بات پر مصر ہیں کہ ایران کو دیے جانے والے میزائل اقوامِ متحدہ کی جانب سے ہتھیاروں کی اس فہرست میں شامل نہیں ہیں جنھیں برآمد کرنے پر پابندیاں عائد ہیں اور جس کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ ہے۔

اسی بارے میں