کیا برطانیہ ابھی بھی عالمی طاقت ہے؟

بلیئر اور تھیچر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹونی بلیئر اور مارگریٹ تھیچر کی بین الاقوامی سطح پر بہت ساکھ تھی

کیا عالمی سطح پر برطانیہ کا کردار عشروں پر محیط بڑی سلطنت سے منظم زوال کی داستان ہے؟

یا یہ درمیانے درجے کی ایک طاقت ہے جس کی دنیا میں حیثیت نئی عالمی حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے۔

ہم کس جانب دیکھیں: یورپ کی طرف یا امریکہ کی طرف؟

1962 میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ ڈین ایچیسن نے کہا تھا کہ برطانیہ ایسا ملک ہے جو سلطنت کھو چکا ہے لیکن ابھی بھی اسے اپنا کردار ڈھونڈنا ہے۔

جبکہ سابق برطانوی وزیرِ خارجہ ڈگلس ہرڈ اس خیال کو ترجیح دیتے تھے کہ برطانیہ عالمی امور میں اپنی حیثیت سے زیادہ مداخلت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

امریکہ پر 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد اس کے وقت کے برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے عالمی سٹیج پر برطانیہ کی ایک تصویر پیش کی تھی کہ وہ سپر پاور نہ سہی، لیکن پھر بھی وہ ایسی طاقت ہے جو ہمیشہ دنیا میں رہے گی۔

سو برطانیہ کے عالمی معاملات میں کردار پر بحث جاری ہے۔ لیکن یہ برطانوی انتخابات میں کوئی ایشو نہیں سمجھا جا رہا۔

برطانوی ٹی وی پر ہونے والی انتخابی مہم کی پہلی بحث کے بعد تو کئی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ کیا وجہ ہے کہ خارجہ پالیسی پر ایک سوال بھی نہیں پوچھا گیا۔

ہو سکتا ہے کہ اس کی توجیح یہ ہو کہ پروگرام کے مختصر دورانیے میں سبھی موضوعات پر بات نہیں کی جا سکتی۔

یہ ایک مشکل وقت ہے جب دنیا مختلف قسم کے بحرانوں سے دوچار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ پر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد برطانیہ نے دہشت گردی کے خلاًاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا

شام، عراق اور یمن میں لڑائی جا رہی ہے، لیبیا کا شیرازہ بکھر رہا ہے اور یورپ کے وسط میں یوکرین میں بھی جنگ ہو رہی ہے۔

پالیسی سازوں کو اس بات کا اداراک ہی نہیں ہے کہ کس طرح پھر سے سر اٹھانے والے روس کے ساتھ نمٹنا ہے یا کس طرح بہتر طریقے سے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکا جائے۔

برطانیہ کا کیا کردار ہے، اگرکوئی کردار ہے تو، اور اگر وہ کوئی کردار ادا بھی کرنا چاہتا ہے تو کم ہوتے ہوئے اس بجٹ میں حقیقت پسندانہ اور ممکن کیا ہو گا؟

کسی لحاظ سے ڈگلس ہرڈ کا بیان کہ ’برطانیہ اپنی حیثیت سے زیادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے‘ جاری بحث پر بہت صادق آتا ہے۔

اب بھی برطانیہ کی آواز اپنی حالیہ عالمی حیثیت کی مناسبت سے زیادہ بلند ہے۔

لیکن برطانیہ کی طاقت اور اثر و رسوخ کی مثالیں عراق اور افغانستان میں جنگیں اور بوسنیا اور کوسوو کی لڑائی میں اس کا کردار ہے۔

اس حوالے سے مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئر کو بھی عالمی سٹیج پر بڑے کھلاڑیوں کی طرح دیکھا جاتا ہے، جو کہ امریکہ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پالیسی کے سبھی امور پر شانہ بشانہ تھے۔

لیکن کئی ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ برطانیہ کی طاقت اب آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے اور ہم بطور ایک قوم برطانیہ کی ساکھ کم ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور بقول ان کے یہ قوم ماضی کے بھوتوں کے سائے تلے رہ رہی ہے۔

دنیا میں جہاں بحران اور جنگیں بڑھ رہی ہیں وہاں برطانیہ کا کردار کم ہوتا بھی نظر آ رہا ہے۔

قرض کے حوالے سے یونان کے ساتھ یوروزون کی رسہ کشی کو ہی دیکھ لیں۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ کی اپنی کوئی آواز نہیں اور وہ اس میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔

برطانیہ پر تنقید کرنے والے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کی فرانس کے ہمراہ یوکرین کے بحران پر روسی صدر ولادی میر پوتن کو قابو کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ پھر پوچھتے ہیں کہ برطانیہ کہاں تھا؟

ایک اور بڑی مثال جو دی جاتی ہے وہ ایران کے ساتھ مذاکرات ہیں جہاں وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذاکرات کی میز پر فرانس کی آواز برطانیہ سے زیادہ سنی جاتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں بڑے اور اہم خارجہ پالیسی کے معاملات میں جن میں کبھی برطانیہ رہنمائی کرتا تھا اب وہ ایسا نہیں کرتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانیہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے

اس کے برعکس ایک یہ بھی خیال ہے کہ برطانوی عوام عراق اور افغانستان کی جنگوں کے تناظر میں اب فوجی مداخلت سے تنگ آ چکے ہیں۔

کئی مبصرین کے مطابق لیبیا میں کرنل قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے لیے مغربی ممالک کی فوجی کارروائی نے عوام کے شک کو مزید ہوا دی ہے۔

اس خیال کے مطابق برطانیہ کو درست فیصلے کرنا چاہییں۔

وہ درمیانے درجے کی طاقت ہے جس کی دوسری ترجیحات بھی ہیں۔

نہ ہی اسے عالمی سٹیج پر ٹانگیں پھیلانا چاہییں اور نہ ہی ایسا سوچنا چاہیے۔ اسے اپنی لڑائی حالات اور وقت کے مطابق بڑی سوچ سمجھ کر چننی چاہیے۔

برطانیہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور عراق میں فوجی کارروائی میں فریق بھی ہے۔

ابھی بھی اقوامِ متحدہ میں اس کی بڑی سنی جاتی ہے اور سلامتی کونسل میں اس کی مستقل نشست ہے۔

یہ یورپی اتحاد کے سینیئر رکن ہے اور نیٹو کے بانیوں میں سے ہے۔ اور اس کے علاوہ اس کا امریکہ سے خصوصی تعلق بھی ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ برطانیہ کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد تجارت اور طاقت کے ’نرم‘ استعمال سے پورے کرے۔

وہ جنگ کے بعد کے جرمنی اور جاپان کی مثال دیتے ہیں جو اب اقتصادی طور پر اہم ممالک ہیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ تجارت اور اقتصادی ترقی عالمی کامیابیوں کے لیے جنگی حربوں سے زیادہ بہتر اور مفید راہیں ہیں۔

اسی بارے میں