’کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو پرنم نہ ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مبینہ کیمیائی گیس حملے میں متاثرہ شخص

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کی ویڈیو دیکھ کر اقوامِ متحدہ میں سلامتی کونسل کے مندوبین اشک بہانے پر مجبور ہو گئے۔

ویڈیو میں گیس سے متاثرہ تین بچوں کے مناظر ہیں جن کو ڈاکٹر بچانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ کوشش نا کام ہو جاتی ہے۔

امریکہ کی سفیر سمینتھا پاور نے بتایا کہ اجلاس ’انتہائی جذبات انگیز‘ تھا اور کہا کہ اس حملے کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

شام کی حکومت نے ادلب میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے خود پر لگنے والے الزام کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔

شامی ڈاکٹروں نے مقامی سماجی کارکنان کی گواہی کی تصدیق کرتے ہوئے سلامتی کونسل کو بتایا کہ 16 مارچ کو سارمین نامی گاؤں کے اوپر ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ اس کے بعد کسی چیز کی زمین پر زور سے گرنے کی آواز آئی اور پھر اچانک بلیچ جیسی بدبو آنے لگی اور لوگ بیمار ہونے لگے۔

’سیریئن امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن‘ کے صدر ظاہر ساہلول وہاں موجود تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سلامتی کونسل کے مندوبین ویڈیو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔

’ کچھ ممبران کھل کر روئے، اور یہ واضح تھا کہ ویڈیو دیکھ کرسب متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے مندوبین نے عام سفارت کاری کی زبان سے ہٹ کر رد عمل ظاہر کیا اور غصے کا اظہار کیا۔‘

سمینتھا پاور نے کہا کہ ’کمرے میں کوئی آنکھ ایسی نہیں تھی جو پرنم نہ ہو‘ اور یہ کہ ان شہادتوں کو جمع کرنے کا مقصد جرائم کے پیچھے افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’انصاف کا لمبا ہاتھ عدل فراہم کرنے میں بہت دیر کر رہا ہے لیکن یہ دستاویزی ریکارڈ ایک دن عدالت میں کام آئے گا۔‘

امریکہ اور سلامتی کونسل کے دیگر ارکان بشار الاسد کی حکومت کو کیمیائی ہتھیار کے استعمال کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شام کی جنگ میں صرف ایک فریق کے پاس ہیلی کاپٹر ہیں اور وہ شام کی حکومت ہے۔

تاہم شام کے اتحادی ملک روس نے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں مثبت ثبوت نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ روس سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھتا ہے۔

اسی بارے میں