عراق میں اہم شدت پسند رہنما’ ہلاک‘ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عزت ابراہیم الدوری امریکہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے

عراق میں ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق صدر صدام حسین کے قریبی ساتھی اور شدت پسند عزت ابراہیم الدوری ہلاک ہو گئے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع صوبہ صلاح الدین میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی کے دوران مارے گئے۔

72 سالہ عزت ابراہیم الدوری ایک مذہبی شدت پسند گروپ کی قیادت کرتے تھے اور اس گروہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے حالیہ عروج میں اس کا اہم کردار ہے۔

عزت ابراہیم الدوری سابق صدر صدام حسین کے نائب تھے، صدام حسین سنہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد فرار ہو گئے تھے۔ بعد میں وہ پکڑے گئے اور سنہ 2006 میں انھیں پھانسی دے دی گئی تھی۔

عزت ابراہیم الدوری کا شمار صدام حسین کی بعث پارٹی کے ان اہم ترین ارکان میں ہوتا تھا جو صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

عزت ابراہیم الدوری امریکہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے۔ اس سے پہلے عزت ابراہیم الدوری کے مارے جانے یا گرفتار ہونے کے بعد اطلاعات مل رہی تھیں تاہم نامہ نگاروں کے مطابق ان کی ہلاکت کی حالیہ اطلاعات سب سے زیادہ مصدقہ ہیں۔

حالیہ مہینوں میں عراقی فوجوں نے امریکی فضائی حملوں کی معاونت میں وسیع پیمانے پر علاقے دولتِ اسلامیہ اور اس کے اتحادیوں کے قبضے سے چھڑوائے ہیں۔

تاہم عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل سمیت ملک کے شمالی اور مغربی حصوں پر سب بھی دولتِ اسلامیہ کا قبضہ قائم ہے۔

اسی بارے میں