اقوام متحدہ کی یمن کے لیے ہنگامی امداد کی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عرب ممالک کی فضائی کارروائیوں میں سینکڑوں یمنی ہلاک اور تین ہزار کے لگ بھگ افراد زخمی ہو چکے ہیں

اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک کی فضائی کارروائیوں سے متاثرہ افراد کے لیے 27 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد کی درخواست کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اردن میں جاری ہونے والی ہنگامی امداد کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ یمن میں پہلے سے جاری انسانی المیے نے موجودہ تنازعے کو اور تباہ کن بنا دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے وان ڈر کلوو نے کہا ہے کہ سعودی سربراہی میں عرب ممالک کی حوثی قبائل کے خلاف فضائی کارروائیوں نے ہزاروں خاندانوں کو گھروں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عام خاندانوں کے لیے زندہ رہنے کے لیے پانی، خوراک ، ایندھن اور صحت عامہ تک رسائی مشکل ہو چکی ہے۔ اپیل میں عالمی برادری اور انسانی فلاح کے دیگر اداروں سے استدعا کی گئی ہے کہ یمن کے 75 لاکھ افراد کو زندہ رہنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے باغیوں کی دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد عدن کی طرف پیش قدمی کے بعد یمن میں فضائی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

عرب ممالک کی طرف سے فضائی کارروائیوں نے یمن کے گورنروں کے زیر انتظام 22 علاقوں میں سے 18 کو متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی کارروائیاں جنوبی یمن بالخصوص عدن کے قریبی علاقوں میں بہت شدت کے ساتھ جاری ہیں۔

ان فضائی کارروائیوں سے مواصلات کے ذرائع کے علاوہ مساجد، سکول، ہسپتال اور ہوائی اڈے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بمباری میں ابھی تک سینکڑوں افراد ہلاک اور تین ہزار کےلگ بھگ شہری زخمی ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کو امید ہے کہ یمن کے تنازعے میں گھرے ہوئےافراد کے لیےادویات، پینے کے صاف پانی اور ہنگامی قیام گاہوں کے لیے فنڈ جلد اکٹھے ہو جائیں گے۔

اقوام متحدہ کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں کی جسمانی حفاطت اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

اسی بارے میں