اویغوروں کا اپنے ’وطن‘ کا خواب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مالکہ اور ان کے بچے قزاقستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں

ایک مدت سے شمال مشرقی چین کے اویغور اپنے ملک میں آزادی پر پابندیوں سے تنگ آ کر سرحد پار وسط ایشیا کے پڑوسی ممالک میں جاتے رہے ہیں، لیکن جوں جوں خطے میں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے وسط ایشیا میں بھی اویغوروں کے لیے ایک آزاد ملک کی مہم چلانا تقریباّ ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

بیرونی دنیا چین سے تبت کی آزادی کی تاریخ جدوجہد کے متعلق تو بہت کچھ جانتی ہے لیکن اسے اویغوروں کے اپنے آزاد ملک کے خواب کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں۔

اویغوروں کا خواب ہے کہ ایک دن تبت کے شمال میں ان کا اپنا اویغورستان ہوگا جسے وہ ’وطن‘ کا نام دیتے ہیں۔

اویغوروں کی اپنا وطن بنانے کی آخری کوشش سنہ 1949 میں ہوئی تھی جسے چین نے بری طرح کچل دیا تھا اور اور اس کے بعد کے برسوں میں 60 ہزار اویغور باشندے سوویت یونین کی سرحد عبور کر کے وسط ایشیا کے ممالک میں منتقل ہو گئے تھے۔

آج کل تقریباّ 3 لاکھ 50 ہزار وسط ایشیا میں مقیم ہیں جن کی اکثریت قزاقستان میں رہتی ہے۔ ماضی قریب تک یہ اویغور چین کے صوبے سنکیانگ میں اپنی خود مختاری کے لیے آواز بلند کرنے میں آزاد تھے۔

لیکن چین کی جانب سے وسطی ایشیا میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے بعد صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ اس سرمایہ کاری کے تحت چین وسطی ایشیا میں گیس اور تیل کی پائپ لائنیں بچھا رہا ہے، ریل کی نئی پٹڑیاں، سڑکیں اور سرحد پار تجارتی زون بھی تعمیر کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قزاقستان میں موجود ایغور معاشرہ تقریباّ مکمل طور پر چین کے قابو میں ہے:کاخرمان خوزمبرادی

’عالمی اویغور کونسل‘ کے وسطی ایشیا کے نمائندے کاخرمان خوزمبرادی کے بقول ’وسطی ایشیا میں چین کے اثر و رسوخ میں بہت اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔‘

قزاقستان میں موجود اویغور معاشرہ تقریباّ مکمل طور پر چین کے قابو میں ہے۔ اب سنکیانگ میں اویغوروں کے مسائل کے بارے میں بات کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ جو بھی اس کے بارے میں بات کرتا ہے اسے سزا دی جاتی ہے۔‘

کاخرمان خوزمبرادی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ تھے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ قزاقستان کے سرکاری حکام برسوں سے ان کی جماعت کو سرکاری طور پر رجسٹر نہیں کر رہے۔

اب ان کے قزاقستان یا کرغستان جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور وہ جب بھی ان ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں انھیں سرحد سے ہی لوٹا دیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس قزاقستان میں موجود اویغوروں کو وہ آزادی حاصل ہے جو انھیں چین میں نہیں ملتی جہاں ان کے مذہب کو ہی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

سنکیانگ میں نوجوان مسلمانوں کو لمبی داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں اور 18 سال سے کم عمر کے افراد کو مسجد میں نماز کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسی طرح خواتین پر بھی پابندی ہے کہ وہ حجاب نہیں لے سکتیں۔

یہاں تک کہ چین میں ان کلچرل پروگراموں کی بھی اکثر اجازت نہیں دی جاتی جن میں روایتی طور پر صرف مرد شریک ہوتے ہیں اور مخلتف موضوعات پر گپ شپ لگاتے ہیں اور روایتی کھانے کھاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قزاقستان میں ایغوروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے

قزاقستان میں پناہ لینے والی ایک اویغور خاتون، 43 سالہ مالکہ نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ایک نئی سیاسی تبدیلی بھی دیکھی ہے اور وہ یہ ہے اب قزاسقستان میں اویغوروں کو خطرہ ہونے لگا ہے کہ انھیں ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔

مالکہ کے بقول چند افراد کے ساتھ ایسا ہو بھی چکا ہے اور وسطی ایشیا میں سفر پر آئے ہوئے چینی اویغوروں کو پکڑ کر واپس سنکیانگ بھیج دیا گیا۔

مالکہ (اصل نام نہیں) فرار ہو کر سنہ 2005 میں اس وقت قزاقستان آ گئی تھیں جب ان کے والد اور بھائی کو ایک حکومت مخالف مظاہرے میں شرکت کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا اور خود انھیں دھمکی دی گئی کہ اگر انھوں نے سر پر سکارف لینا ترک نہ کیا تو انھیں بھی جیل بھجوا دیا جائے گا۔

مالکہ کہتی ہیں کہ ’ قزاستان میں بھی میں خوف سے گھر سے باہر نہیں نکلتی۔ مجھے خود کو بالکل محفوظ نہیں سمجھتی کیونکہ چین ہمارے پڑوس میں ہے۔‘

مالکہ کی طرح چین بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتا اور اسے ان اویغوروں سے خطرہ ہے جنھوں نے تشدد کی راہ اپنا لی ہے۔

گذشتہ کچھ برسوں میں چین کے اس علاقے میں کئی خونریز حملے ہو چکے ہیں جن میں جنوب مغربی چین میں ایک ریلوے سٹیشن پر سنہ 2014 کا وہ واقعہ بھی شامل ہے جس میں چاقو کے وار کر کے 29 افراد کو ہلاک اور 130 کو زخمی کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہو سکتا ہے کہ انھوں نے بہت دباؤ برداشت کر لیا ہو: صدرالدین

چین کہتا ہے کہ دہشتگردی کے ان حملوں کے ذمہ دار افراد کے تانے بانے عالمی جہادی تنظیموں سے ملتے ہیں۔ معلوم نہیں اس میں کتنا سچ ہے، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اویغور واضح طور پر شدت پسند اسلام کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

قزاقستان کے سابق دارالحکومت الماتی کے قریب ایک اویغور علاقے کے امام مسجد صدرالدین ایوبوف کہتے ہیں کہ ’اب شدت پسندی ہر معاشرے میں پائی جانے لگی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اصل اسلام کیا ہے۔

جب میں نے پوچھا کہ سنکیانگ میں اویغور لوگ تشدد کی راہ کا انتخاب کیوں کر رہے تو مغربی لباس میں ملبوس صدرالدین ایوبوف نے قدرے توقف کے بعد کہا ’میں نہیں کہہ سکتا کہ کیوں کچھ اویغور تشدد پر اتر آئے ہیں۔ ہم لوگ ایک عرصے سےسنکیانگ نہیں گئے، ہو سکتا ہے کہ انھوں نے بہت دباؤ برداشت کر لیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ (اس لڑائی میں) ان کے ماں باپ مارے گئے ہوں۔‘

نوجوانوں کو صحیح راستے پر رکھنے کے لیے صدرالدین ایوبوف نے جو طریقے اپنائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ انھیں کھیلوں میں مشغول رکھتے ہیں۔

جہاں تک اویغوروں کی اکثریت کا تعلق ہے تو ان کا خیال ہے کہ کچھ دہشتگردوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے ان کے اپنے آزاد وطن کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ ایسی کارروائیوں سے چین کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ تمام اویغوروں پر سختی کر سکے۔

لیکن اس کے باوجود کہ اب قزاقستان، ازبکستان اور کرغستان میں ایک آزاد اویغور ریاست کی سر عام بات کرنا مشکل ہو گیا ہے، لیکن ایک ’وطن‘ کا خواب پوری طرح زندہ ہے۔

اسی بارے میں