ترکی سے حراست میں لیے گئے پانچ برطانوی شہری رہا

تصویر کے کاپی رائٹ agency
Image caption یہ پانچ افرد روچڈیل سے تعلق رکھنے والے نو افراد پر مشتمل ایک گروہ کا حصہ تھے، جنھیں تین ہفتے قبل ترکی میں شام کی سرحد کےقریب گرفتار کیا گیا تھا

برطانیہ میں حکام نے شام میں جاری لڑائی میں شدت پسند تنظیم کے ساتھ شامل ہونے کے شبے میں ترکی کی سرحد سے حراست میں لیے گئے چھ افراد کو رہا کر دیا ہے۔ یہ افراد ترکی کے راستے شام کی سرحد میں داخل ہونا چاہتے تھے۔

برطانیہ کے انسدادِ دہشت گردی ایک یونٹ نے پہلے سے جاری تفتیش کے سلسلے میں انھیں اُس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ شام کی شہر حلب سے 46 کلومیٹر کے فاصلے پر ترکی کی سرحد میں تھے۔

’برطانیوں کو جہاد سے روکنے کے لیے دل و دماغ جیتنے ہوں گے‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ اِن افراد سے برطانیہ کو فوری طور پر کوئی خطرہ ہے۔

رہا ہونے والے افراد میں پانچ کی عمریں 21 سے 47 برس کے درمیان ہیں اور انھیں رواں ماہ کے آغاز میں دہشت گردی کارروائی کرنے اور دہشت پر اُکسانے جیسے الزامات کے تحت حراست میں گیا تھا۔

برطانیہ کے علاقے روچڈیل سے تعلق رکھنے والے ایک تیس سالہ شخص کو بھی جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، رہا کر دیا گیا ہے۔

رہا ہونے والے پانچ افراد میں سے ایک شخص کے والد کونسلر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان کا بیٹا اپنے خاندان کے پاس واپس پہنچ کر بہت خوش ہے۔‘

یہ پانچ افرد روچڈیل سے تعلق رکھنے والے نو افراد پر مشتمل ایک گروہ کا حصہ تھے، جنھیں تین ہفتے قبل ترکی میں شام کی سرحد کےقریب گرفتار کیا گیا تھا۔ نو افراد پر مشیمل اس گروہ میں چار بچے بھی شامل تھے۔

گرفتار ہونے والے افراد میں 21 سالہ وحید احمد بھی شامل تھا۔ وحید کے والد شکیل احمد روچڈیل میں لیبر پارٹی کے کونسلر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات اہم ہے کہ میڈیا کے کچھ حصوں اور چند سیاست دانوں کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ تمام افراد کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جانا چاہیے جب تک اُن پر عائد الزامات ثابت نہ ہو جائیں۔‘

شکیل احمد نے کہا کہ ’ہمیں احتیاط کرنی چاہیے کہ تفتیش کا عمل یا عدالت کی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے منفی تبصرہ نہ کریں کیونکہ اس طرح کرنے سے ہم ایک خاندان پر نہ صرف دھبہ لگا رہے ہیں بلکہ لوگوں کے منصفانہ انصاف کے حق کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں