’بحیرۂ روم کے پانیوں کی نگرانی کے لیے مستعد مہم ضروری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ سے مالٹا اور اٹلی کی جانب جانے والا سمندری راستہ مہلک ترین راستہ بن چکا ہے

افریقہ سے یورپ پہنچنے کے لیے کوشاں تارکینِ وطن کی بحیرۂ روم میں ہلاکتوں کے واقعات میں اضافے کے بعد اس معاملے پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس پیر کو لکسمبرگ میں منعقد ہو رہا ہے۔

جنوبی یورپ کے کئی ممالک کا موقف ہے کہ یہ ہلاکتیں یورپی یونین کی ساکھ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں کیونکہ یورپی ممالک کی تنظیم نے ہی گذشتہ برس تارکینِ وطن کی حوصلہ شکنی کے لیے بحیرۂ روم میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بحیرۂ روم میں کشتی ڈوبنے سے 650 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

’غیر قانونی تارکینِ وطن کو خطرناک سفر سے روکنے کے لیے اقدمات کریں‘

ادھر اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ سے مالٹا اور اٹلی کی جانب جانے والا سمندری راستہ مہلک ترین راستہ بن چکا ہے اور ان پانیوں کی نگرانی کے لیے ایک تلاش اور بچاؤ کی صلاحیت رکھنے والی مستعد مہم درکار ہے۔

رواں سال کے دوران اس سمندر میں کشتیاں ڈوبنے سے ہلاک ہونے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد اندازاً 1500 تک پہنچ چکی ہے۔

اس سلسلے میں تازہ ترین حادثہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب لیبیا کے ساحل سے 27 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا اور ڈوبنے والی کشتی کے 700 مسافروں میں سے اب تک صرف 28 کو ہی بچائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں مرنے والوں کی درست تعداد شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے کیونکہ کشتی اب سمندر کی تہہ میں ہے اور اطلاعات کے مطابق انسانی سمگلروں نے اس پر سوار بہت سے افراد کو نچلے حصے میں بند کیا ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption زیادہ سے زیادہ امدادی کشتیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں بلکہ ہمیں کشتیوں کو وہاں روکنا ہے جہاں سے وہ اپنا سفر شروع کرتی ہیں: میتیو رینزی

اس حادثے کے بعد اٹلی نے ایک بار پھر یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے۔

اٹلی کے وزیراعظم میتیو رینزی نے اتوار کو یورپی یونین کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی سمگلنگ ’ہمارے براعظم میں طاعون‘ کی طرح ہے اور یہ یورپی ممالک کی یکجہتی کے لیے پریشان کن ہے۔

لیبیا میں سیاسی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ افریقہ اور مشرقِ وسطی کے افراد کو وہاں سے سمندر کے راستے یورپ بھیج رہے ہیں۔

وزیراعظم میتیو رینزی نے کہا لیبیا کا مسئلے کا حل اہم ہے کیونکہ سمندر کے راستے اٹلی پہچنے والے 90 فیصد افراد اپنے سفر کا آغاز لیبیا سے کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ امدادی کشتیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں بلکہ ہمیں کشتیوں کو وہاں روکنا ہے جہاں سے وہ اپنا سفر شروع کرتی ہیں۔

انھوں نے یورپی یونین اجلاس بلانے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اس حادثے کو دیکھ کر یورپی ممالک میں وہ یکجہتی محسوس نہیں ہو رہی جو دوسرے معاملات پر نظر آتی ہے۔‘

میتیو رینزی نے کہا کہ ’ہم نے کہا ہے کہ انھیں اکیلا نہیں چھوڑا جائے ۔ خاص کر اُس وقت جب سمندر میں ہنگامی حالات ہوں لیکن ہمیں انسانی سمگلنگ روکنا ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ انسانی سمگلنگ ’ہمارے براعظم میں طاعون‘ ہے، یہ اکیسویں صدی کی غلامی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ برس افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات اور غربت سے تنگ آ کر ایک لاکھ 70 ہزار افراد نے غیرقانونی طور پر اٹلی کا رخ کیا

اس سے قبل اطالوی کوسٹ گارڈ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ تارکینِ وطن سے بھری، مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والی کشتی لبییا کے ساحل سے 27 کلومیٹر اور اطالوی ساحل سے 210 کلومیٹر دور ڈوبی۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ کشتی اس وقت ڈوبی جب ایک تجارتی جہاز کو قریب دیکھ کر کشتی کے زیادہ تر مسافر ایک جانب جمع ہوگئے جس سے اس کا توازن بگڑا اور وہ الٹ گئی۔

کوسٹ گارڈ کے ترجمان کے مطابق ابھی یہ تلاش اور بچاؤ کا آپریشن ہے مگر بعد میں لاشوں کی تلاش کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

حالیہ دنوں میں بحیرۂ روم پار کرنے کی کوشش کرنے والے تقریباً دس ہزار تارکین وطن کو بچایا بھی گیا ہے اور اٹلی نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین سے مزید مدد مانگی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات اور غربت سے تنگ آ کر ایک لاکھ 70 ہزار افراد نے غیرقانونی طور پر اٹلی کا رخ کیا تھا۔

موسم میں بہتری کے ساتھ ہی رواں برس ایسے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے جو 500 کلومیٹر کے اس سمندری سفر پر نکلے ہیں۔

اسی بارے میں