ماحولیاتی کارکنوں کی اموات میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ FASHIONCINE
Image caption مقامی قبائل کی رہائشیوںکا کہنا ہے کہ انھیں متعدد دھمکیوں کا سامنہ کرنا پڑا ہے۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیم گلوبل وٹنس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی کارکنوں کی اموات میں گذشتہ سال 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ادارے کی طرف سے شائع کی گئی رپورٹ میں دنیا بھر میں 2014 میں 116 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جس میں سے 29 کا تعلق برازیل سے، 25 کا کمبوڈیا سے اور 15 کا فلپائن سے تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کارکنان کو اغوا کیا گیا اور انھیں بڑی کمپنیوں کے اور حکومتی مفاد کے خلاف بولنے پر ڈرایا دھمکایا گیا۔

پچھلے سال ہائیڈرو پاور سے منسلک پروگرام کے خلاف بولنے والوں کی اموات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ 14 لوگ اپنے گھروں اور دریاؤں کو ڈیموں کی تعمیر سے ہونے والے ممکنہ نقصان سے بچانے کی مذمت کرنے کے بعد ہلاک ہو گئے۔

گلوبل وٹنس نے ہونڈوراس کو ماحولیاتی کارکنوں کے حوالے سے سب سے خطرناک ملک قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ہونڈوراس کے قوانین بہت رجعت پسندانہ ہیں اور ملک کا موسم آلودگی سے بھرا ہوا ہے۔

ہونڈوراس میں ہلاکتوں کی تعداد 2002 کے بعد سے اب تک 111 ہے۔ وہاں کے مقامی لوگ، جو قدرتی وسائل اور اپنی زمین کے لیے حکومت سے لڑ رہے تھے، کی اموات کی شرح 40 فیصد بتائی گئی ہے۔ ستمبر میں پیرو کے قبیلے کے سربراہان درخوں کی غیرقانونی کٹائی روکنے کے لیے ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ انھیں قتل کر دیا گیا۔

وہاں کے ایک مقامی قبیلے کی رہائشی برٹا کاسیرس نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کو علاقے میں ڈیم بنانے کے فیصلے کی مذمت کرنے کے بعد متعدد دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں انھیں جانے سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی ہی زمین پر مفرور حالت میں رہنا پڑ رہا ہے۔

کارکنوں کو عموماً ملک دشمن سمجھا جاتا ہے اور بہت سے ملک ان سے نمٹنے کے لیے دہشت گردی کے قوانین کی مدد لیتے ہیں۔

گلوبل وٹنس نے دنیا بھر کی حکومتوں اور بین الاقوامی برادری سے ان واقعات کی تحقیق کرنے اور اس چھپے ہوئے بحران سے نمٹنے کی درخواست کی ہے۔

اسی بارے میں