ایران داعش کے آسٹریلوی جنگجوؤں کی تلاش میں مدد دے گا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آسٹریلوی وزیرِ خارجہ نے دورۂ تہران کے دوران ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں

آسٹریلیا نے دولتِ اسلامیہ کے لیے لڑنے والے اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے ایران سے ایک غیر رسمی معاہدہ کیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت ایران اور آسٹریلیا ایسے آسٹریلوی جنگجوؤں کی تلاش کے لیے خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے جو عراق میں شدت پسند تنظیم کی جانب سے برسرِپیکار ہیں۔

یہ فیصلہ آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ جولی بشپ کے دورۂ ایران کے دوران ہوا ہے۔

پیر کو اس دورے سے واپسی پر اس تعاون کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے عراقی حکومت کی مدد کرنا دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام اس معاملے (آسٹریلوی شہریوں کی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت) میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور متعلقہ معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایرانی قیادت کے ساتھ بات چیت میں یہ اتفاق ہوا کہ ہم خفیہ معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں خصوصاً ان غیر ملکی دہشت گردوں اور جنگجوؤں کے بارے میں جن کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور جو عراق میں جاری لڑائی میں شامل ہیں۔‘

خیال رہے کہ آسٹریلیا سے 100 سے زیادہ افراد دولتِ اسلامیہ کا ساتھ دینے کے لیے عراق اور شام جا چکے ہیں اور ملک کے اندر بھی اس شدت پسند تنظیم کے پیغام سے متاثرہ افراد کی جانب سے حملوں کا خطرہ موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آسٹریلیا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے پیغام سے متاثرہ افراد کی جانب سے حملوں کا خطرہ موجود ہے

سنیچر کو ہی میلبرن میں پولیس نے دو ایسے نوجوانوں کو دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا ہے جن پر دولتِ اسلامیہ کی تحریک سے متاثر ہونے کا شبہ ہے۔

جولی بشپ کا کہنا تھا کہ ’ایران کے پاس وہ معلومات ہیں جو ہمیں درکار ہیں اور وہ اس بات پر تیار ہیں کہ وہ ان ہم سے ان معلومات کا تبادلہ کریں گے۔‘

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان معلومات کے بدلے میں آسٹریلیا ایران کو کیا دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں خفیہ معلومات کے تبادلے کے بارے میں مزید معلومات نہیں دے سکتی۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’یہ بات واضح ہے کہ داعش کو شکست دینے کے تناظر میں اگر ایران کے پاس ہماری دلچسپی کی معلومات ہوئیں تو وہ ہمیں دے گا اور اگر ہمارے پاس ایسی کوئی چیز ہوئی تو ہم انھیں دیں گے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا اس عالمی اتحاد کا حصہ ہے جو عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ایران اگرچہ اس اتحاد کا تو حصہ نہیں لیکن وہ عراق میں داعش سے برسرِپیکار شیعہ ملیشیا کو عسکری مشاورت فراہم کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے عراقی حکومت کی مدد کرنا دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے: جولی بشپ

خیال رہے کہ آسٹریلیا دوسرا ملک ہے جس سے ایران نے داعش کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اتوار کو ایران اور افغانستان نے بھی دولت اسلامیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے دو طرفہ سیکیورٹی تعاون بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔

دونوں ممالک اس شدت پسند تنظیم کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

تہران میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ایران اور افغانستان سرحدی علاقوں میں اطلاعات کا تبادلہ بڑھائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی میں بھی تعاون ممکن ہے۔

اسی بارے میں