صومالیہ میں بم حملہ، اقوام متحدہ کے کارکنوں سمیت سات ہلاک

دارالحکومت موگادیشو میں ایک سرکاری عمارت کے گیٹ پر ہونے والے کار بم حملے کے بعد کا منظر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الشباب نے حالیہ برسوں میں دارالحکومت موگادیشو میں کئی حملے کیے ہیں

صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک بم دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے پروگرام یونیسف کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں مرنے والوں میں اس کے چار کارکن بھی شامل ہیں۔

ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کو لے جانے والی بس سڑک کنارے نصب بم کا نشانہ بنی۔

بیان کے مطابق ملازمین دفتر سے چند منٹ کی دوری پر واقع گیسٹ ہاؤس سے دفتر آ رہے تھے کہ حملہ ہوا جس میں چار ملازمین شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔

انھوں نے ہلاک شدگان کے نام یا قومیتیں بتانے سے معذرت کی اور کہا کہ ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے رابطے کے بعد ہی ان کی شناخت ظاہر کرنا ممکن ہوسکے گا۔

اسلامی شدت پسند گروہ الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

جائے حادثہ پر موجود ایک پولیس افسر محمد عابدی کا کہنا تھا کہ ’جب یہ دھماکہ ہوا تو بس ملازمین کو لے کر اقوام متحدہ کے دفتر جا رہی تھی۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس حملے میں چھ راہگیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں سفید رنگ کی ایک چھوٹی وین دیکھی جا سکتی ہے جس کی چھت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

صومالیہ میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نکلس کے نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں اس حملے کی مذمت کی ہے۔

الشباب نے حالیہ برسوں میں خاص طور صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں،اقوام متحدہ کے اہلکاروں پر کئی حملے کیے ہیں۔

اقوام متحدہ 20 برس سے زیادہ عرصے سے جنگ کا شکار اس ملک کو پھر سے اس کے پیروں پر کھڑا کرنے میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کی مدد کر رہی ہے۔

اسی بارے میں