’شام کے لیے عازمِ سفر برطانوی خاندان انقرہ سے گرفتار‘

Image caption آصف ملک کا خاندان ایک سی سی ٹی وی تصویر میں

ترک حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے شام کے لیے عازمِ سفر ایک برطانوی خاندان کو ترک پولیس نے انقرہ میں حراست میں لیا ہے۔

دو میاں بیوی اور چار بچوں پر مشتمل اس خاندان کا تعلق برک شائر کے علاقے سلاؤ سے ہے اور یہ 16 اپریل سے لاپتہ تھے جن کے خاندان والوں نے ان کی باحفاظت واپسی کی اپیل کی ہے۔

سارہ کرن جن کی عمر 29 سال ہے اور ان کے 31 سالہ شوہر آصف ملک اپنے بچوں کے ساتھ انقرہ میں پولیس کی حراست میں ہیں۔

سارے بعوں کی عمر سات سال سے کم ہے اور اور اس خاندان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ترکی یونان کے راستے داخل ہوئے اور انہیں انقرہ کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔

ترک وزیراعظم کے دفتر نے بی بی سی کو بتایا کے انہیں ملک بدرہ کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں چند دن لگیں گے اور اس خاندان کے بارے میں ترک پولیس کو 19 اپریل کو پتا چلا۔

ٹیمز ویلی پولیس نے بتایا کہ انہیں اس جوڑے کے بارے میں تصدیق موصول نہیں ہوئی ہے تاہم وہ ’ترک حکام کے ساتھ مل کر اس خاندان کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں‘۔

اس خاندان نے سلاؤ سے 7 اپریل کو سفر شروع کیا تھا مگر انہوں نے اپنے خاندان میں کسی بھی شخص کو نہیں بتایا تھا اور 8 اپریل کو علی الصبح ساڑھے بارہ بجے کیلے کی بندرگاہ سے فیری کے ذریعے سمندر پار کیا۔

حکام کا خیال ہے کہ انہوں نے یورپ میں سفر ممکنہ طور پر بذریعہ ٹرین کیا اور ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ سے 12 اپریل کے قریب گزرے۔

برکشائر سلاو سے تعلق رکھنے والے اس خاندان نے سات اپریل کو اپنے کسی بھی عزیز یا رشتہ دار کو سفری تفصیلات سے آگاہ کیے بغیر گھر چھوڑ دیا تھا۔ یہ جوڑا اپنے بچوں سمیت آٹھ اپریل کو برطانیہ کے مشرق میں واقع ڈوور کی بندرگاہ سے برطانوی وقت کے مطابق رات بارہ بجکر تیس منٹ پر فرانس جانے کے لیے جہاز میں سوار ہوا تھا۔

برطانوی افسران کا خیال ہے کہ ان افراد نے یورپ کا سفر غالباً ٹرین میں کیا اور گیارہ یا بارہ اپریل کو بوداپسٹ اور ہنگری سے گزرے۔

اتوار کو پولیس نے کہا تھا کہ آن لائن پر دولتِ اسلامیہ کی تحریر وتقریر، بچوں والے اس خاندان کے سفر کی سمت اور ان کے رشتہ داروں کی طرف سے تشویش کے اظہار کے بعد پولیس کو بھی ’تشویش‘ لاحق ہوگئی تھی کہ یہ لوگ شام جا رہے ہیں۔

اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیف کانسٹیبل جان کیمپبل نے زور دیا تھا کہ پولیس اس خاندان کے بارے میں کوئی مجرمانہ تفتیش نہیں کر رہی بلکہ انھیں گمشدہ سمجھ کر انکوائری کر رہی ہے۔

اسی بارے میں