ہولوکاسٹ کے بیان پر امریکہ کی پولینڈ سے معذرت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ بھر میں 60 لاکھ یہودیوں کا قتل ہوا تھا

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں تعینات امریکہ کے سفیر نے ہولوکاسٹ کے بارے میں ایف بی آئي کے ڈائریکٹر کے بیان پر پولش حکام کے احتجاج کے بعد معافی مانگ لی ہے۔

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی نے اپنے ایک مضمون میں کہا تھا کہ ہولوکاسٹ کے لیے جرمنی کے ساتھ پولینڈ کے لوگ بھی ذمہ دار ہیں۔

ان کے اس بیان پر پولینڈ میں طوفان برپا ہوگیا اور پولینڈ کے صدر برونسلا کومورووسکی نے اس پر تنقید کرتے ہوئے ہوئے اسے پولینڈ کی ’توہین‘ قرار دیا۔

پولینڈ نے امریکی سفیر کو طلب کر کے باضابطہ شکایت درج کی تھی۔

خیال رہے کہ جیمز کومی نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ’جرمنی، پولینڈ اور ہنگری اور بہت سے دوسرے مختلف جگہوں کے قاتل اور ان کے شریک کاروں کا خیال ہے کہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

’ان کا یہ یقین تھا کہ انھوں نے جو کیا وہ درست تھا۔‘

امریکی سفیر سٹیون مل نے پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہولوکاسٹ کے لیے صرف اور صرف نازی ذمہ دار ہیں جس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ بھر میں 60 لاکھ یہودیوں کا قتل ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جیمز کومی نے جمعرات کو اپنے مضمون میں ہولوکاسٹ کے متعلق جو باتیں لکھیں اس پر پولینڈ میں زبردست احتجاج ہوا

انھوں نے کہا: ’میں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایسے خیالات امریکہ کا موقف نہیں ہیں کہ ہولوکاسٹ کے لیے پولینڈ کسی طرح بھی ذمہ دار ہے۔‘

انھوں نے پولش زبان میں بات کرتے ہوئے کہا: ’اس کے لیے تنہا نازی جرمنی ذمہ دار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں مجھے بہت سے کام ہیں اور بہت سی چیزوں کو درست کرنا ہے۔‘

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس مضمون کا وسیع پیغام یہ تھا کہ بہت سے لوگوں نے یا تو نازیوں کا ساتھ دیا یا پھر ظلم کے خلاف بشمول امریکہ بہت کچھ نہیں کیا۔

واشنگٹن پوسٹ نے اتوار کو ایک کالم شائع کیا ہے جس میں مسٹر کومی کے مضمون کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Keystone Getty
Image caption نازیوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کے لیے کنسنٹریشن کیمپ قائم کیے تھے

اس سے قبل پولینڈ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا جائے گا اور باضابطہ شکایت درج کی جائے گی۔

مسٹر کومی کے مضمون نے پولینڈ میں احتجاج کا طوفان کھڑا کر دیا۔

صدر نے پولینڈ کے ٹی وی پر کہا کہ ’یہ بیان ان ہزاروں پولینڈ کے باشندوں کی توہین ہے جنھوں نے یہودیوں کی مدد کی۔‘

وزیر اعظم ایوا کوپاکز نے کہا: ’جو لوگ تاریخ کو ایمانداری سے پیش نہیں کر سکتے ان کو میں کہنا چاہتی ہوں کہ پولینڈ دوسری جنگ عظیم کا مرتکب نہیں بلکہ اس کا شکار تھا۔ جو اس معاملے پر بات کرتے ہیں میں ان سے مکمل تاریخی معلومات کی امید کرتی ہوں۔‘

اسی بارے میں