’بحیرۂ روم میں تارکین وطن کی ہلاکتوں میں 30فیصد اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فور مائیگریشن یعنی پناہ گزینوں کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم میں گذشتہ سال اس عرصے کے مقابلے میں اس سال 30 فیصد زیادہ تارکین وطن ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اٹلی کے حکام کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم میں ڈوبنے والی غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتی کے کپتان سمیت حراست میں لیے گئے دونوں افراد کے خلاف قتل اور انسانی سمگلنگ کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ی پناہ گزینوں کے عالمی ادارے ’آئی او ایم ‘کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں اس عرصے میں صرف 56 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس سال خدشہ ہے کہ اب تک 1750 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے یورپ سے اپیل کی ہے کہ تارکین وطن کے تحفظ پر توجہ مرکوز کی جائے اور اگر اس حوالے سے اقدامات نہیں کیے گئے تو اس سال ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

لیبیا سے آنے والی کشتی کے کپتان کا تعلق تیونس سے ہے اور اُن پر سینکڑوں تارکینِ وطن کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کشتی کے عملے میں شامل حراست میں لیے گئے شخص کے ساتھ ساتھ کپتان پر بھی انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ان دونوں افراد کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب حادثے میں بچنے والے افراد کو لے کر ایک کشتی اطالوی شہر سسلی میں کاتانیا کی بندرگاہ پہنچی۔

لیبیا کے راستے یورپ کا رخ کرنے والے تارکینِ وطن کی کشتی سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب لیبیا کی ساحل سے 27 کلومیٹر کی دوری پر غرقاب ہوگئی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 800 ہو سکتی ہے۔

منگل کو اٹلی میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی ترجمان کارلوٹا سامی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد 800 ہے۔‘

ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ کشتی پر 700 افراد سوار تھے جن میں سے صرف 27 کو ہی بچایا جا سکا تھا۔

تاہم اس حادثے میں بچنے والے افراد نے ساحل پر پہنچنے پر بتایا تھا کہ کشتی کے مسافروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

کشتی کے مسافروں میں اریٹریا، صومالیہ اور شام کے علاوہ مغربی افریقہ کے نصف درجن کے قریب ممالک کے باشندے سوار تھے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بچائے جانے والے دو افراد حادثے میں مرنے والوں کی لاشیں پکڑ کر تیرتے پائے گئے۔

بحیرۂ روم میں کشتی ڈوبنے کے اس حادثے کی تحقیقات انسانی قتل کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔

غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتی کے حراست میں لیے گئے کپتان کا تعلق تیونس سے ہے اور وہ بھی اُن افراد میں شامل ہیں جنھیں حادثے کے بعد زندہ بچایا گیا۔ کشتی کے عملے میں شامل گرفتار ہونے والے شخص کا تعلق ممکنہ طور پر شام سے بتایا جاتا ہے۔

کشتی کے عملے کے دونوں افراد کو ایسے وقت پر گرفتار کیا گیا ہے کہ جب بحیرۂ روم میں انسانی سمگلنگ کے مسئلے پر یورپی یونین نے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ حادثے کے بعد تلاش اور بچاؤ کا عمل تیز کر دیا گیا اور اس حادثے میں اب قتل کے الزامات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل امدادی اداروں نے کہا تھا کہ اس حادثے میں مرنے والوں کی درست تعداد شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے کیونکہ کشتی اب سمندر کی تہہ میں ہے اور اطلاعات کے مطابق انسانی سمگلروں نے اس پر سوار بہت سے افراد کو نچلے حصے میں بند کیا ہوا تھا۔

زندہ بچ جانے والے ایک مسافر صلوی نے بتایا کہ حادثے کے وقت سینکڑوں مسافر جہاز کے نچلی منزل میں بند ہو گئے جبکہ کئی افراد جہاز کے اوپری عرشے پر پھنس گئے تھے۔

حکام کے مطابق تارکینِ وطن سے بھری مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والی یہ کشتی تیونس سے سنیچر کو روانہ ہوئی تھی اور اطلاعات کے مطابق اس وقت ڈوب گئی جب ایک تجارتی جہاز کو قریب دیکھ کر زیادہ تر مسافر ایک جانب جمع ہو گئے جس سے کشتی کا توازن بگڑا اور وہ الٹ گئی۔

اگر 2014 کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو افریقی ممالک سے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کا تعلق اریٹریا، مالی اور نائجیریا سے تھا۔ اور ان میں مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

اٹلی: سمندر کے راستے پہنچنے والے
ملک مرد خواتین بچے کل تعداد
شام 25,155 6,203 10,965 42,323
ایریٹریا 24,061 6076 4,192 34,329
مالی 9,382 27 529 9,938
نائجیریا 6,989 1,454 557 9,000
گیمبیا 7,409 28 1,270 8,707
فلسطین 3,413 1,035 1,634 6,082
صومالیہ 3,010 1,104 1,642 5,756

ادھر یورپی یونین نے تارکینِ وطن کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے نئے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی نے کہا کہ دس نکات پر مشتمل ایک پیکیج لکسمبرگ میں مذاکرات کے نتیجے سامنے آیا اور یہ ’حالیہ سانحات کے نتیجے میں سامنے آنے والا ایک زبردست ردِ عمل ہے، جس سے ’ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے کے حل کے لیے سیاسی عزم اور کوششیں تیز کرنے کا اظہار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بالآخر ہم یورپی سطح پر انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے مکمل یورپی سطح پر متحد ہو رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کشتی کے مسافروں میں اریٹریا، صومالیہ اور شام کے علاوہ مغربی افریقہ کے نصف درجن کے قریب ممالک کے باشندے سوار تھے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئے منصوبے کے تحت ٹرائٹن پیٹرولنگ سروس کو مضبوط کیا جائے گا اور انسانی سمگلروں کی کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے فوجی اختیار دیا جائے گا۔

جنوبی یورپ کے کئی ممالک کا موقف ہے کہ یہ ہلاکتیں یورپی یونین کی ساکھ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں کیونکہ یورپی ممالک کی تنظیم نے ہی گذشتہ برس تارکینِ وطن کی حوصلہ شکنی کے لیے بحیرۂ روم میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

موگرینی نے زور دے کر کہا کہ لیبیا میں بھی کارروائی کی ضرورت ہے جہاں ’سرحدوں کی نگرانی اور کنٹرول کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔‘

انسانی سمگلر لیبیا میں جاری سیاسی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسے ایسے تارکینِ وطن کے لیے کشتیوں کے سفر کا مقامِ آغاز بناتے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک میں جاری تشدد کے نتیجے میں فرار ہونا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں