سعودی عرب کے یمن میں حوثی باغیوں پر دوبارہ فضائی حملے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک فوجی اہلکار کے مطابق تعز میں باغیوں کے حملے کے بعد لڑائی میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں

سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی آپریشن ختم کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی دوبارہ یمن میں فضائی حملے کیے ہیں۔

اس سے پہلے سعودی عرب کے حملے بند کرنے کے اعلان کے بعد ایران نے لڑائی سے متاثرہ افراد کو فوری امداد فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سعودی عرب اور اتحادی ممالک کے فضائی حملے بند کرنے کے فیصلے کو ’مثبت‘ قرار دیتے ہوئے یمن میں نئی حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

یمن میں سعودی عرب اور اتحادیوں کی بمباری کی مہم اختتام پذیر

بدھ کو سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز میں حوثی قبائلیوں پر فضائی حملے کیے۔

تعز میں فضائی حملوں سے پہلے وہاں حوثی باغیوں نے سعودی عرب فرار ہونے والے یمنی صدر ہادی کے حامی فوج کے اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس کے علاوہ عدن اور صوبہ لہج کے دارالحکومت ہوتا میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سعودی عرب نے یمن کے ساتھ اپنی سرحد پر فوج تعینات کر دی ہے

بدھ کو علی الصبح تعز شہر کے مضافات میں حوثی باغیوں نے صدر ہادی کی حامی فوج کے 35ویں آرمڈ بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیا۔

ایک فوجی اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی قبائلیوں کے حملے کے بعد ہونے والی شدید لڑائی میں درجنوں افراد مارے گئے۔

باغیوں کے فوجی اڈے پر قبضے کے چند گھنٹوں بعد ہی جنگی جہازوں سے باغیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

فوجی اہلکار کے مطابق جنگی جہازوں نے تعز شہر میں باغیوں اور سابق صدر صالح کے حامیوں پر بھی حملے کیے ہیں۔

سعودی عرب نے ایران پرحوثی باغیوں کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ تہران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

یمن میں فضائی کارروائیاں بند کرنے کے اعلان کے بعد سعودی عرب کے فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ اُن کا ملک یمن کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتا ہے لیکن انھوں نے ضرورت پڑنے پر فوج کے استعمال کو مسترد نہیں کیا۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’فوجی کارروائی بند کرنا مثبت اقدام ہے، متاثرین کو امداد دی جائے، بین الیمنی مذاکرات کروائے جائیں اور حکومت بنائی جائے۔ ہم مدد کے لیے تیار ہیں۔‘

اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کے اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسنا خبر رساں ادارے کو بتایا: ’ہم نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ یمن کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور بلا شبہ جنگ بندی اور معصوموں اور نہتے افراد کی ہلاکتوں کے خاتمے کا فیصلہ ہی درست اور آگے بڑھنے والا ہے۔‘

یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیے جانے کے بعد سے بے چینی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اُس کی اتحادی افواج کے آپریشن ’ڈیسائیسیو سٹورم‘ نے اپنے فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں

حوثی زیدی شیعہ ہیں اور انھوں نے جنوری میں صدر ابراہیم منصور ہادی کو اُن کے صدارتی محل میں نظر بند کر دیا تھا جس کے بعد صدر ہادی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور انھوں نے فروری میں عدن میں پناہ حاصل کر لی۔

تاہم بعد میں مارچ کے مہینے میں جب حوثی باغیوں اور صدر ہادی کی مدد کرنے والی سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی افواج نے ساحلی شہر کی جانب پیش قدمی شروع کی تو وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سعودی عرب اور اُس کی اتحادی افواج کے آپریشن ’ڈیسائیسیو سٹورم‘ نے اپنے فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اب ایک نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔

اس نئے آپریشن کا نام آپریشن ’ریسٹورنگ ہوپ‘ ہے جس کا مقصد اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے اور سعودی عرب میں سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے کام پر توجہ دینا ہے۔

سعودی اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العصیری نے کہا تھا کہ پہلے مرحلے میں حوثی باغیوں کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام روکنے سے امیدیں بحال ہوئی ہیں اور زمینی حقائق تبدیل ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آپریشن ’ڈیسائیسیو سٹورم‘ یمن کی حکومت کی درخواست پر ختم کیا گیا ہے۔ ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں یمن کے مفرور صدر منصور ہادی نے سعودی عرب اور اُس کے اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا۔

منصور ہادی نے کہا کہ ’میں یمن کی عوام کی جانب سے غیر معمولی تعاون پر عرب ممالک اور مسلم اُمہ اور دوستوں کا تہہِ دل سے شکرگزار ہوں۔‘

امریکہ نے بھی فضائی حملے روکنے کے سعودی عرب کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور یمن کے بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطی کے نامہ نگار جرمی بوئن کا کہنا ہے کہ مہم کے پہلے حصے میں سعودی عرب نے کامیابی کا دعویٰ کیا ہے لیکن یمن کا دارالحکومت صنعا حوثی باغیوں کے قبضے میں ہے اور یمن میں حکومت بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو پائی۔

منگل کو تازہ فضائی حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق 30 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

اسی بارے میں