’اٹلی انسانی سمگلروں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اطالوی وزیرِاعظم نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی سمگلر ’21ویں صدی کے غلاموں کے تاجر ہیں۔‘

اطالوی وزیراعظم ماتیو رینزی نے کہا ہے کہ ان کا ملک انسانی سمگلروں کے ساتھ جو تارکینِ وطن کو یورپ لانے کے دھندے میں ملوث ہیں ’حالتِ جنگ‘ میں ہے۔

انھوں نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ موثر کارروائی کرے تاکہ لوگوں کو بحیرۂ روم میں مرنے سے بچایا جا سکے۔

اطالوی وزیراعظم نے یہ بیان یورپی رہنماؤں کی کانفرنس سے قبل دیا جو جمعرات کو اس مسئلے پر بحث کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔

اطالوی وزیرِ دفاع روبرٹا پینوتی نے اطالوی ٹی وی کو بتایا کہ اس سلسلے میں یورپ کو فوجی مداخلت کے امکان پر غور کرنا چاہیے: ’ہمیں معلوم ہے کہ سمگلر اپنی کشتیاں کہاں رکھتے ہیں اور کہاں اکٹھے ہوتے ہیں اور فوجی مداخلت کے منصوبے موجود ہیں۔‘

گذشتہ اتوار کو 800 سے زیادہ افراد ایک ہی واقعے میں سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے جس کے نتیجے میں اب تک ڈوب کر ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی کُل تعداد 1750 ہو گئی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے جنگ اور غربت و افلاس سے بچ کر بھاگنے والے افراد کی تعاد روز بروز بڑھ رہی ہے جن میں خصوصاً اریٹریا اور شام جیسے ممالک کے شہری ہیں۔

حالیہ مہینوں میں کمزور اور سمندر میں چلنے کے ناقابل کشتیوں میں سوار ہو کر آنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فور مائیگریشن یعنی پناہ گزینوں کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم میں گذشتہ سال اس عرصے کے مقابلے میں اس سال 30 فیصد زیادہ تارکین وطن ہلاک ہوئے ہیں۔

بدھ کو اطالوی کوسٹ گارڈز 500 کے قریب افراد کو مختلف کشتیوں سے بچا کر ساحل پر لے آئے۔

اطالوی پارلیمان سے بدھ کو خطاب کرتے ہوئے رینزی نے کہا کہ انسانی سمگلر ’21ویں صدی کے غلاموں کے تاجر ہیں۔‘

انھوں نے 28 رکنی یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

اسی بارے میں