نائجیریا: فوج کی بوکو حرام کے خلاف زمینی کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نائجیریا کی فوج نے، جسے ہمسایہ ممالک کے فوجی دستوں کی مدد حاصل ہے، فروری میں بوکو حرام کے خلاف کارروائی شروع کی تھی

نائجیریا میں زمینی فوجی دستوں نے اسلامی شدت پسندوں کے گروہ بوکو حرام کے آخری معلوم ٹھکانے پر کارروائی میں حصہ لیا ہے۔

فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک کے شمال مشرق میں واقع سیمبیسا کے جنگل میں بوکو حرام کے کئی اڈے ہیں جنھیں اس سال فروری سے فضائی بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ چیبوک سکول کی وہ طالبات جنھیں گذشتہ سال اغوا کیا گیا تھا، انھیں انہی جنگلوں میں قید میں رکھا گیا ہے۔

بوکو حرام نے 2009 سے اب تک شمال نائجیریا میں ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

نائجیریا کی فوج نے جسے ہمسایہ ممالک کے فوجی دستوں کی مدد حاصل ہے، فروری میں بوکو حرام کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور بہت سے ایسے علاقے پر واپس کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس پر شدت پسندوں نے پچھلے سال تک قبضہ کر رکھا تھا۔

اغوا ہونے کے تھوڑے ہی عرصے بعد بوکو حرام کی حراست سے فرار ہونے والی طالبات نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں سیمبیسا کے جنگل میں شدت پسندوں کے کیمپوں میں رکھا گیا تھا۔

بی بی سی افریقہ کے سکیورٹی کے نامہ نگار ٹومی اولیڈیپو کا کہنا ہے کہ نائجیریا کی فوج ثابت قدمی سے باغیوں کے قبضے میں گیا ہوا علاقہ واپس حاصل کر رہی ہے اور سیمبیا کے جنگل پر کنٹرول حاصل کرنا اس کا سب سے بڑا مقصد ہے۔

تاہم ہمارے نامہ نگار کے مطابق یہ جنگل کسی بھی ایسی جگہ سے زیادہ بڑا ہے جہاں کوئی کوئی جنگ ہوئی ہو۔

سیمبیسا پر جو شمال مشرق میں بورنو ریاست میں واقع ہے، فضائی بمباری موسمی حالات اور خراب روشنی کے باعث سست پڑ گئی ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل کرس اولوکولیڈ نے اس کارروائی کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

گڈلک جوناتھن پر جو اس سال مئی میں جیتنے والوں کو اقتدار منتقل کریں گے، شدید تنقید ہوتی رہی ہے کہ انھوں نے اس قضیے کو ختم کرنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں کیا۔ لیکن ان کی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ مئی کے آخر میں نو منتخب صدر محمد بحاری کو اقتدار کی منتقلی سے پہلے وہ بوکو حرام کو کچل کر رکھ دے گی۔

اسی بارے میں