تارکین وطن کا بحران، یورپی یونین کا ہنگامی اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اٹلی نے سمندر کے راستے آنے والے تارکین وطن سے نمٹنے کے لیے مزید مدد کی اپیل کی ہے

بحیرۂ روم میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں نے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

اس اجلاس میں پیش کی جانے والی تجاویز میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کی تجویز بھی شامل ہو گی جس کے تحت ایسے پانچ ہزار تارکین وطن کو رہنے کی اجازت دے دی جائے گی جو ’تحفظ دیے جانے کی شرائط‘ پر پورا اترتے ہوں گے۔

’اٹلی انسانی سمگلروں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے‘

گذشتہ اتوار کو بحیرۂ روم میں اٹلی کی سمندری حدود میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی تھی۔ اس حادثے میں اب تک ڈوب کر ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی کُل تعداد 1750 ہو گئی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے جنگ اور غربت و افلاس سے بچ کر بھاگنے والے افراد کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے جن میں خصوصاً اریٹریا اور شام جیسے ممالک کے شہری ہیں۔

حالیہ مہینوں میں کمزور اور سمندر میں چلنے کے ناقابل کشتیوں میں سوار ہو کر آنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس سال اب تک 21000 سے زیادہ لوگ اٹلی پہنچے ہیں۔

اٹلی کے وزیر اعظم ماتیو رینزی نے انسانی سمگلنگ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے ان سمگلروں کو ’21وں صدی میں غلاموں کے تاجروں‘ سے تشبیہ دی۔

برسلز میں ہونے والے اس اجلاس کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک کے لیڈر ’ایسا نظام بنائیں گے کہ انسانی سمگلروں کی کشتیوں کی نشاندہی کی جائے، اور انھیں قبضے میں لے کر تباہ کر دیا جائے تاکہ وہ انھیں استعمال ہی نہ کر سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونان میں ہونے والے ایک مظاہرے میں عالمی رہنماؤں پر اس سلسلے میں اقدامات کرنے کے لیے زور دیا جا رہا ہے

مسودے کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی کو کہا گیا ہے کہ وہ ’فوری طور پر ایک ممکنہ سکیورٹی اور دفاعی پالیسی تیار کریں جو کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو۔‘

دیگر تجاویز میں لیبیا میں ایک مستحکم حکومت کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرنا بھی شامل ہے۔

اٹلی کا کہنا ہے کہ اس کے ساحلوں پر آنے والی 90 فیصد کشتیاں لیبیا سے آتی ہیں۔

یورپی لیڈر اس اجلاس میں یورپ پہنچ جانے والے تارکین وطن کے مستقبل پر بھی مشاورت کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس تجویز پر مختلف ممالک میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ تارکین وطن کو یورپی ممالک میں یکساں تعداد میں پھیلا دیا جائے۔

پیر کو یورپی یونین نے مزید ہلاکتوں کو روکنے کے لیے ایک دس نکاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے چند اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:

  • فرنٹیکس کے لیے مالیاتی وسائل میں اضافہ کیا جائے یورپی یونین کے بحیرۂ روم میں ریسکیو سروس ٹرائٹن چلاتی ہے اور ٹرائٹن کے آپریشنل علاقے کو بڑھانے کے اقدامات بھی ہیں
  • اٹلی اور یونان میں ٹیموں کی تعیناتی تاکہ پناہ کی درخواستوں کی مشترکہ منظوری کے ذریعے اس عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔
  • تمام تارکینِ وطن کے انگوٹھوں کے نشانات کا حصول اور ان کے ریکارڈ کی تیاری

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فور مائیگریشن یعنی پناہ گزینوں کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم میں گذشتہ سال اس عرصے کے مقابلے میں اس سال 30 فیصد زیادہ تارکین وطن ہلاک ہوئے ہیں۔

بدھ کو اطالوی کوسٹ گارڈز 500 کے قریب افراد کو مختلف کشتیوں سے بچا کر ساحل پر لے آئے تھے۔

اسی بارے میں