ترکی میں’ کعبہ کی رونمائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میئر حلمی ترمین کے مطابق یہ ماڈل عید میلادالنبی کے تہوار کے حوالے سے بنائے گئے ہیں

اطلاعات کے مطابق ترکی کے شہر استنبول کے ایک علاقے کے میئر کو اسلام کے مقدس ترین مقامات کے ماڈل بنانے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ترکی کے اخبار ’روزنامہ حریت‘ کی ویب سائٹ کے مطابق استنبول کے علاقے اسکودار میں مقدس مقامات کے ان نمونوں کی رونمائی اتوار کو کی گئی جن میں خانہ کعبہ اور زم زم کے کنویں کے ماڈل شامل تھے۔

میئر حلمی ترمین کے مطابق یہ ماڈل پیغمبر اسلام کی پیدائش یعنی عید میلادالنبی کے تہوار کے حوالے سے بنائے گئے ہیں۔ ’اِن دنوں میں ہم اپنے آقا کو سالگرہ مبارک کہتے ہیں اور ان ماڈلوں کے ذریعے ہم یہ محسوس کرانا چاہتے ہیں کہ جیسے کعبہ ہمارے شہر میں آ گیا ہو۔‘

لیکن ترکی میں مذہبی اقدار کے سب سے بڑے نگہبان ادارے ’دیانت‘ نے میئر کی جانب سے مقدس مقامات کے ماڈل بنائے جانے کے فیصلے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا۔ اپنے ایک بیان میں ادارے کا کہنا تھا کہ کعبے کا طواف آپ صرف حج کے موقعے پر کرتے ہیں اور کسی دوسرے حوالے سے کعبے کے ماڈل یا نمونے کے گرد چکر لگانا ’گناہِ عظیم‘ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مزاح نگاروں نے بھی ان ماڈلوں کو اپنے مضامین اور کارٹونوں میں جگہ دی ہے

اس حوالے سے ترکی میں معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹوں پر ملے جلے تاثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ لیکن ایک ترکی صحافی نے طنزاً کہا کہ یہ ماڈل کمائی کا اچھا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ٹوئٹر پر صحافی سلیمی اِنکے کا کہنا تھا کہ ’ تصور کریں کہ اب لاکھوں لوگ حج کے لیے استنبول آنا شروع کر دیں۔‘

اس کے علاوہ مزاح نگاروں نے بھی ان ماڈلوں کو اپنے مضامین اور کارٹونوں میں جگہ دی ہے۔

ترکی کے ایک معروف فکاحیہ رسالے نے اپنے سرورق پر ایک کارٹون شائع کیا ہے جس میں دو مرد دکھائے گئے ہیں جن میں ایک دوسرے سے پوچھتا ہے کہ ’تم نے حج کہاں کیا؟‘

دوسرا بولا: ’میرا حج بہت آسان تھا۔ میں نے اسکودار میں ہی حج کر لیا تھا۔‘

اسی بارے میں