امریکی آپریشن میں دو یرغمالی بھی ہلاک

ڈاکٹر وارن وان سٹائن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر وارن وان سٹائن نے ایک ویڈیو میں اپنی رہائی کے لیے صدر اوباما سے اپیل کی تھی

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو بتایا ہے کہ جنوری میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں امریکی انسدادِ دہشت گردی ٹیم کا ایک کارروائی میں القاعدہ کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے امریکی اور ایک اطالوی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ آپریشن میں امریکی ڈاکٹر وارن وان سٹائن اور اطالوی جیوانی لو پورتو کے علاوہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے ایک رہنما احمد فاروق بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک مختلف آپریشن میں امریکہ میں القاعدہ کے ایک اور رکن آدم غادان بھی مارے گئے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یہ ایک نہایت تکلیف دہ نقصان ہے جس پر انھیں بہت افسوس ہے۔

ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے ’گہرے غم‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو علم نہیں تھا کہ یرغمالیوں کو القاعدہ کے اس احاطے میں رکھا گیا تھا جہاں آپریشن کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دستیاب شدہ معلومات سے انٹیلی جنس کمیونٹی اس بات کی تصدیق کر سکتی ہے کہ آپریشن میں دونوں یرغمالی حادثاتی طور پر مارے گئے تھے۔

’کوئی بھی الفاظ اس خوفناک سانحے پر ہمارا افسوس ظاہر نہیں کر سکتے۔‘

وائن سٹائن کو 2011 میں لاہور سے اغوا کیا گیا تھا جہاں وہ ایک امریکی فرم کے لیے کام کرتے تھے۔ القاعدہ نے کہا تھا کہ ان کے بدلے میں امریکہ کی قید میں ایک شدت پسند کو رہا کر دیا جائے تو وہ انھیں چھوڑ دیں گے۔

وائن سٹائن کی دو ویڈیوز مئی 2012 اور دسمبر 2013 میں جاری کی گئی تھیں جس میں انھوں نے صدر اوباما سے اپنی رہائی کے معاملے میں مداخلت کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دل اور دمے کے مرض میں مبتلا ہیں۔

اطالوی امدادی کارکن لو پورتو جنوری 2012 سے پاکستان میں لاپتہ تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں کوئی مغوی ہلاک ہوا ہو

وائٹ ہاؤس نے کارروائی کی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن اخبار وال سٹریٹ جنرل کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے ڈرون حملے میں حادثاتی طور پر کسی مغوی کو ہلاک کر دیا ہو۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر اوباما اس کارروائی کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنوں کے متعلق جہاں تک ممکن ہو امریکی عوام کو آگاہ رکھا جائے، خصوصاً اس وقت جب ان میں دوسرے امریکی شہریوں کی ہلاکت بھی ہو جاتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگرچہ آپریشن قانون کے مطابق کیا گیا تھا اور ہماری انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا تھا لیکن پھر بھی ہم اس پر مکمل آزادانہ نظرِ ثانی کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ وہاں کیا ہوا تھا اور ہم کیسے مستقبل میں اس طرح کے المناک سانحوں سے بچ سکتے ہیں۔‘

اطالوی میڈیا کے مطابق سسلی کے شہر پالیرمو سے تعلق رکھنے والے لو پورتو کو پاکستان آنے کے تین روز بعد ہی اغوا کر لیا گیا تھا۔ وہ 2010 کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے کام کرنے والی ایک جرمن تنظیم سے وابستہ تھے۔

ایک اور شخص کو بھی ان کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا لیکن جرمنی کی خصوصی فورسز نے اکتوبر 2014 کو ایک آپریشن میں انھیں بازیاب کروا لیا تھا۔

اسی بارے میں