’چیچنیا میں بغیر اجازت کارروائی پرگولی چلائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رمضان قادرروف کے کریملن کے ساتھ قریب تعلقات رہے ہیں

چیچنیا کے رہنما رمضان قادرروف نے اپنی سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ اگر آئندہ روسی سکیورٹی دستے بغیر اجازت کے چیچنیا میں کارروائی کریں تو ان پر فائرنگ کی جائے۔

رمضان قادروف کا یہ بیان اسی ہفتے چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی میں ہونے والے ایک واقعے کے بعد سامنے آیا جس میں روسی سکیورٹی فورسز نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس شخص کا نام مطلوب افراد کی سرکاری فہرست میں شامل تھا اور جب روسی سکیورٹی فورسز نے اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اس نے مزاحمت کی۔

قادرروف نے سنہ 2007 میں کریملن کی حمایت کے ساتھ چیچنیا کا اقتدار سنبھالا اور اسلام پسند باغیوں کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی۔

روس کے ساتھ فاداری کے بدلے میں رمضان قادررف کو اپنی خصوصی سکیورٹی فورس رکھنے کی اجازت ملی اور کافی حد تک ان کو آزادی تھی کہ وہ کسی مداخلت کے بغیر چیچنیا پر حکمرانی کریں۔

ٹی وی پر نشر کیے جانے والے بیان میں رمضان قادررف نے چیچن سکیورٹی فورسز سے کہا: ’میں باضابطہ طور پر یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہمارے علم میں لائے بغیر ماسکو یا سٹاوروپول سے کوئی ہماری زمین میں داخل ہوتا ہے تو اس پر فائرنگ کی اجازت ہے۔ انھیں ہمیں بھی پہچاننا چاہیے۔‘

19 اپریل کو روس کے سٹاوروپول کے علاقے سے آنے والے سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک چیچن کو گروزنی شہر میں نشانہ بنانے پر قادروف انتہائی ناخوش تھے۔

چیچن انسانی حقوق کے نمائندے نوردی نکھازییو نے چیچن گروزنی ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے گواہوں سے سنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص غیر مسلح تھا اور اس نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کی کوشش بھی کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاہم نقاب پوش افراد نے اس شخص پر قریب سے گولیاں چلائیں اور پھر اس کے دل پر گولی چلا کر اسے ختم کر ڈالا۔‘

نکھازییو نے کہا کہ وہ روس کے وزیر داخلہ اور سرکاری استغاثہ سے التجا کریں گے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کریں۔

روسی حکومت کی جانب سے اب تک کادیرو کے اس نئے کمانڈ پر کوئی جوابی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے قادررف کی سکیورٹی فورسز پر تشدد اور غیر قانونی قتل عام جیسی خلاف ورزیاں کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

رمضان قادررف نے گذشتہ ہفتے انھوں نے ایک چیچن شخص کا دفاع کیا تھا جس پر الزام ہے کہ اس نے روسی حزب مخالف کے رہنما بورس نیمتسوو کو ماسکو میں قتل کیا۔

ناقدین نے رمضان قادرروف پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ قتل کے کئی خفیہ کیسوں میں ملوث تھے۔ تاہم قادررف نے ہمیشہ اس کی تردید کی ہے۔