جنوبی افریقہ میں تارکین وطن پر حملوں کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی افریقہ میں تارکین وطن پر حملوں کے الزام میں 307 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے

جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ہزاروں افراد نے ملک میں تارکین وطن پر حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

اس مظاہرے میں جنوبی افریقہ کے شہریوں اور تارکین وطن سمیت 30 ہزار کے قریب شہریوں نے حصہ لیا۔

احتجاجی مظاہرے کے شرکانے’متحدہ افریقہ‘ اور’غیر ملکیوں، خوش آمدید‘ کے نعروں پر مبنی پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

جوہانسبرگ کے علاوہ ساحلی شہر پورٹ الزبتھ میں غیر ملکیوں سے تعصب کے خلاف مظاہرہ کیا اور ان پر حملوں روکنے کے حوالے سے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

رواں ہفتے کے آغاز پر جنوبی افریقہ میں حکام نے تشدد کے خطرے کے پیشِ نظر حساس علاقوں میں فوجی اہلکار تعینات کیے تھے۔

ان علاقوں میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران تشدد کے واقعات میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پانچ ہزار افراد بے گھر ہوئے اور تارکین وطن کی متعدد دکانوں کو لوٹ لیا گیا۔

جنوبی افریقہ کے صوبے گاؤتنگ وزیراعلیٰ نے جوہانسبرگ میں منعقدہ جلوس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’جیسے ہم نے نسلی عصبیت کا مقبالہ کیا تھا ویسے ہی ہم غیر ملکیوں کے خلاف پائی نفرت کا بھی کریں گے۔‘

گاؤتینگ صوبے میں جوہانسبرگ بھی شامل ہے اور یہ ملک کی معیشت میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔

جنوبی افریقہ کے بے روزگار شہریوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ غیر ملکیوں کی وجہ سے وہ بے روزگار ہوئے ہیں۔

اس وقت ملک میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد ہے۔

جوہانسبرگ کے ایک رہائشی ووسی ہلاگبانے نے بی بی سی کو بتایا ’نیلسن منڈیلا تو اپنی قبر میں بے چین ہوں گے۔ یہ وہ جنوبی افریقہ نہیں ہے جس کے لیے وہ لڑے تھے۔‘

پورٹ الزبیتھ میں ایک خاموش مارچ ہوا جس میں زمبابوے کا جھنڈا لہرایا گیا اور پلے کارڈز جن پر لکھا تھا’تنوع ہماری مضبوطی ہے۔‘ ان حملوں کے بعد جنوبی افریقہ کو پورے خطے کی طرف سے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں تقریباً 20 لاکھ غیر ملکی ہیں اور یوں وہ کل آبادی کا 4 فیصد حصہ ہیں۔ تاہم کچھ اندازوں کے مطابق غیر ملکیوں کی تعداد 50 لاکھ ہے۔

ان میں سے اکثریت جنوبی افریقہ میں 1994 کے بعد آئے تھے جب نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔

اسی بارے میں