ویٹیکن پر القاعدہ کے حملے کا منصوبہ ناکام

ویٹیکن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پکڑے جانے والے گروہ میں ایک مبینہ خود کش بمبار بھی تھا

اٹلی میں پولیس نے القاعدہ کے ساتھ مشتبہ تعلق کے الزام میں 20 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ ویٹیکن کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

اٹلی میں استغاثہ کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ یہ افراد ممکنہ طور ویٹیکن کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

تفتیش کاروں کے مطابق انھوں نے سارڈینیا میں ایک جنگجو گروہ کو گرفتار کیا ہے جس میں ایک مشتبہ خودکش بمبار بھی تھا جو شاید ’ہولی سی‘ یعنی ویٹیکن پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

رپورٹوں کے مطابق ان میں سے اٹلی سے گرفتار ہونے والے کچھ مشتبہ افراد 2009 میں پشاور کی مارکیٹ پر بم حملے میں بھی ملوث تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق دو افراد نے اسامہ بن لادن کو تحفظ بھی فراہم کیا تھا۔

ویٹیکن پر حملے کا منصوبے ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے پولیس نے 18 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد میں القاعدہ سے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے دو محافظ بھی شامل ہیں۔

اٹلی کے حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے کچھ مشتبہ افراد پاکستان میں بھی شدت پسندی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اٹلی میں گرفتار ہونے والے افراد کی تفصیل جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’روم میں پاکستانی سفارت خانہ گرفتار افراد کی قومیت اور دیگر تفصیلات جاننے کے لیے اٹلی کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

حالیہ دنوں میں اٹلی کے حکام نے کہا تھا کہ وہ شدت پسند اسلامی گروہ کی جانب سے روم کو فتح کرنے اور عیسائیت کو نقصان پہچانے کی دھمکیوں کو انتہائی سنحیدگی سے لے رہے ہیں۔‘

دوسری جانب ویٹیکن کے اطراف میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔سوئس گارڈز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ تیار ضرور ہیں لیکن کسی فوری دھمکی کے بارے میں انھیں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

پوپ فرانسس نے بھی کچھ دنوں قبل کہا تھا کہ انھیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے لیکن انھوں نے کہا تھا کہ وہ اُن معصوم افراد کے لیے فکر مند ہیں، جو اُن سے ملنے کے لیے آتے ہیں۔

اسی بارے میں