یمن کی جنگ میں ’اب تک 551 ہلاکتیں‘ سیاسی حل کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ نے جمعہ کو کہا کہ اس جنگ میں 551 سے بھی زیادہ شہری ہلاک ہو گئے ہیں

یمن میں حوثي باغیوں کے ایک اہم حامی سابق صدر علی عبداللہ صالح نے لڑائی ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ سیاسی حل کے لیے بات چیت کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

سعودی عرب کی قیادت میں لڑنے والی اتحادی افواج گذشتہ ایک ماہ سے باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہی ہے جو کہ موجودہ حکومت کے حق میں ہے۔

سابق صدر نے تمام فریقوں سے درخواست کی ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے متفق ہو جائیں۔

ان کے مطابق یہ مذاکرات جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے چاہیں۔

علی عبداللہ صالح کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب یمن کے کئی شہروں سے اتحادی افواج کے اور ہوائی حملوں کی اور عدن میں لڑائی جاری رہنے کی خبریں آرہی ہیں۔

اسی موقعے پر اقوام متحدہ کی بچوں کے بہبود کے ادارے يونیسیف کا کہنا ہے کہ یمن میں ایک ماہ سے جاری اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں کم سے کم 115 بچے ہلاک اور 172 اپاہج ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے جمعہ کو کہا کہ اس جنگ میں 551 سے بھی زیادہ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

یونیسیف میں یمن کے نمائندے جولین ہارنیس کا کہنا تھا کہ ’یمن میں ہزاروں بچے ایسے ہیں جو اب بھی خطرے بھرے ماحول میں رہ رہے ہیں۔ ہلاک بچوں کی تعداد ظاہر کرتا ہے کہ یہ لڑائی اس ملک کے بچوں کے لیے کتنی خوفناک ثابت ہوئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ امدادی سامان کو شہریوں تک پہنچانے میں مدد کریں

اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق، اس تشدد میں تقریبا 150،000 لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

يوہانس وین ڈیرکل جو یمن کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق کنوینر ہیں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں بڑھتے خونی تنازعے سے یہاں کے صحت کا نظام خاتمے کے دہانے پر ہے۔

ملک بھر میں پانی، بجلی اور کھانے کی چیزوں کی فراہمی میں تشدد کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے اور ملک کے قریب بیس لاکھ بچے اسکول نہیں جا پا رہے ہیں۔

يوہانس وین ڈیركل نے بھی تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ امدادی سامان کو شہریوں تک پہنچانے میں مدد کریں۔

اگرچہ سعودی عرب کی قیادت میں لڑنے والی فوج نے اپنے ہوائی حملوں کے مہم کے ختم ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن باغیوں پر ان کے حملوں ابھی جاری ہیں۔ اتحادی افواج جلاوطن صدر ابراہیم منصور ہادی کو اقتدار واپس دلانا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں