’دولتِ اسلامیہ کی ہیلتھ سروس ویڈیو‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بظاہر اس ویڈیو کی فلم بندی رقہ جنرل ہسپتال میں ہوئی ہے جو کہ شام میں دولت اسلامیہ کا مضبوط گڑھ ہے

دولتِ اسلامیہ نے بظاہر ایک پروموشنل ویڈیو جاری کی ہے جس میں برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کی طرز پر اپنی طبی سہولیات پیش کی گئی ہیں۔

اس ویڈیو میں ایک آسٹریلوی ڈاکٹر کو دکھایا گيا ہے۔

ویڈیو کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے لیکن یہ دولتِ اسلامیہ سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر گردش کر رہی ہے اور اس میں دولتِ اسلامیہ کے سابقہ ویڈیوز کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔

این ایچ ایس کی طرز کے لوگو پر ’آئی ایس ایچ ایس‘ یعنی دولت اسلامیہ ہیلتھ سروس لکھا ہوا ہے۔

بظاہر اس کی فلم بندی رقہ جنرل ہسپتال میں ہوئی ہے جو کہ شام میں دولتِ اسلامیہ کا مضبوط گڑھ ہے۔

ویڈیو میں پہلا ڈاکٹر وزارت صحت کے قیام کے بارے میں بات کرتا ہے جو کہ دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں طبّی سہولیات کا ضابطہ کار ہے۔ اس میں رقہ ہسپتال کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے جسے نئے سرے سے آراستہ کیا گیا ہے۔

ایک دوسرا ڈاکٹر انتہائی نگہداشت کی یونٹ (آئی سی یو) کے بارے میں بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں جنگ اور کار حادثے کے شکار افراد کا علاج ہوتا ہے۔

ایک تیسرا شخص ایکس رے کے شعبے کے بارے میں بتاتا ہے جس میں خواتین کے لیے ایک مخصوص یونٹ بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رقہ دولت اسلامیہ کا شام میں مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے

ویڈیو میں موجود آسٹریلوی ڈاکٹر اپنا تعارف ابّو یوسف کے نام سے کرواتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک سے سفر کرتے ہوئے دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے وہاں پہنچے تاکہ وہ اپنی طبّی صلاحیت کو ’اسلام کے لیے جہاد میں استعمال کر سکے۔‘

ویڈیو میں انھیں نوزائیدہ بچوں کو انکیوبیٹر میں علاج کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ہسپتال کا یہ شعبۂ اطفال بظاہر اچھی سہولیات سے مزین نظر آتا ہے۔

براہ راست کیمرے سے مخاطب ہوتے ہوئے ڈاکٹر یوسف کہتے ہیں کہ کاش انھوں نے دولتِ اسلامیہ میں پہلے ہی شمولیت اختیار کرلی ہوتی۔ وہ مغربی ممالک کے ڈاکٹروں اور دوسرے طبّی پیشہ وروں سے اس گروپ میں شامل ہونے کی اپیل بھی کرتے ہیں۔

اس ویڈیو میں ہسپتال میں موجود دیگر سہولیات کا بھی ذکر ہے جس میں فیزوتھریپی اور ڈائی لیسس وغیرہ شامل ہیں۔

بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار گورڈن کوریرا کا خیال ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈا ویڈیوز میں یہ ویڈیو زیادہ متاثر کن ہے۔ اس کی پروڈکشن بہتر اور چمکدار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کا ایسے ویڈیوز انٹرنیٹ پر ڈالنا مغربی ممالک کے لیے اصل تشویش کا باعث ہے۔ اگرچہ حکومت بہت سوں کو شام اور عراق جانے سے روکا تاہم اب بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو وہاں جانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اسی بارے میں