نیپال اتنا غیرمحفوظ کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سنیچر کی صبح کے زلزلے کے بعد سے نیپال کی دارالحکومت سے جو تصاویر موصول ہو رہی ہیں انھیں دیکھ کر خوف آتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے کھٹنمنڈو کے جس تاریخی چوک ’دربار سکوائر‘ کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا وہ آج خاک کا ڈھیر بن چکا ہے۔ مشہور ’دھرہارا ٹاور‘ کا مینار مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور اس کا صرف زیریں حصہ ایستادہ بچا ہے۔

نیپال کے لیے زلزلہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ یہ ملک دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں زمین ہل جُل رہی ہے اور چھوٹے موٹے بھونچال آتے رہتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، یہ جاننے کے لیے آپ کو صرف ہمالیہ پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور بات سمجھ آ جاتی ہے۔

ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ مسلسل حرکت میں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی ایک تہہ یا تھالی ( انڈین ٹیکٹونک پلیٹ) آہستہ آہستہ ایک دوسری تھالی ( یوریشئن ٹیکٹونک پلیٹ) کے نیچے دھنس رہی ہے۔ کرّہ زمین کے پرت پر موجود یہ دو بڑی سلیں دو انچ سالانہ کی شرح سے ایک دوسرے میں ضم ہو رہی ہیں۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ اور اس کے ارد گرد کے پہاڑ آہستہ آہستہ اوپر سرک رہے ہیں جس کے باعث اس خطے میں جھٹکے محسوس ہوتے رہتے ہیں۔

برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی کے جِیو سائنس کے شعبے کے پروفیسر ڈیوڈ رودری کے بقول ’یوریشئن پلیٹ ہمالیہ کے پہاڑوں کو انڈین پلیٹ کے اوپر آہستہ آہستہ دھکیل رہی ہے جس کے نتیجے میں دو تین مقامات ایسے ہی جہاں یہ دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ چند مقامات جہاں پر زمین قدرے نرم ہے، وہ زیادہ سرکتے ہیں جس کے نتیجے میں زلزلے آتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ اس زلزلے سے ہمالیہ کا کتنا علاقہ متاثر ہوا ہے۔‘

غیر محفوظ عمارات

چاہے زلزلے کی شدت کتنی کم ہی کیوں نہ ہو، ابتدائی معلومات میں جتنی اموات سامنے آتی ہیں، آنے والے وقت میں اس میں ہمیشہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

اسی طرح اِس مرتبہ بھی خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی حتمی تعداد خاصی زیادہ ہوگی۔

اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ زلزلے کے پہلے جھٹکے کی شدت بہت زیادہ تھی، بلکہ یہ بھی کہ زلزلے کے مرکز کی گہرائی بھی بہت کم تھی۔ اب تک کے اندازوں کے مطابق اس زلزلے کا مرکز 10 سے 15 کلومیٹر گہرائی پر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جب زمین کے اندر گہرائی اتنی کم ہو تو سطح زمین پر آپ کو شدید جھٹکے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلے جھٹکے کے بعد بھی جھٹکوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اسی لیے سنیچر کو بھی پہلے جھٹکے کے چار گھنٹے بعد تک کم از کم 14 مذید جھٹکے محسوس کیے گئے جن میں سے زیادہ تر کی شدت تین اور چار کے درمیان رہی لیکن ایک جھٹکا 6.6 کی شدت کا بھی آیا۔

یاد رہے کہ ریکٹر سکیل پر ایک درجہ کم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی توانائی میں 30 گنا کمی ہوتی ہے، لیکن اگر پہلے جھٹکے میں عمارتوں کو نقصان پہنچ چکا ہو تو بعد میں کم درجے کے جھٹکے بھی ان عمارتوں کو زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

زیادہ تر ماہرین کا اندازہ یہی ہے کہ نیپال کے اس علاقے میں زیادہ تر آبادی ایسے گھروں میں رہتی ہے جن کی دیواریں آئے روز کے جھٹکوں کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہیں۔

لینڈ سلائیڈ کا خطرہ

ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس زلزلے کے نتیجے میں بھی کئی مقامات پر زمین کے سرکنے یا لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات بھی موجود ہیں۔

اس قسم کے پہاڑی علاقے میں کئی ایسے دور دراز گاؤں ہوں گے جو لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ سکتے ہیں اور پہاڑ سے گرنے والی چٹانوں اور گرد و غبار کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ اس وجہ سے آنے والے دنوں میں امدای کام کرنے والے اہلکاروں اور سرکاری اداروں کو مشکلات کا سامنا ہوگا اور مختلف مقامات پر ہونے والے نقصانات کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے میں بھی وقت لگے گا اور ہمیں کئی متضاد اطلاعات موصول ہوں گے۔

ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں سنہ 1934 میں 8.1 شدت کے ریاست بہار کے زلزلے، سنہ 1905 میں 7.5 شدت کے کانگڑا کے زلزلے اور سنہ 2005 میں کشمیر میں 7.6 کی شدت کے زلزلے کی یاد آتی ہے۔ ان میں سے آخری دو زلزلے خاص طور پر بہت تباہ کن ثابت ہوئے تھے اور ان میں ایک لاکھ سے زائد لوگ ہلاک اور لاکھوں بےگھر ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں