یمنی وزیر خارجہ کی حوثیوں کو مذاکرات کی مشروط پیشکش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے طیاروں نے دارالحکومت صنعا سمیت مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں جبکہ بحری جہازوں سے بھی بمباری کی گئی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے یمن میں فضائی حملے ختم کرنے کے اعلان کے بعد پہلی بار دارالحکومت میں فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

اس سے پہلے اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی تعز میں فضائی حملے کیے گئے تھے۔

دوسری جانب یمن کے جلاوطن وزیر خارجہ نے سابق یمنی صدر صالح کے امن مذاکرات کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ حوثی باغیوں سے مشروط امن مذاکرات کرنے پر تیار ہیں۔

وزیر خارجہ ریاض یاسین کے مطابق مذاکرات سے پہلے حوثی باغیوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور اعلان کرنا ہو گا کہ وہ ملیشیا نہیں بلکہ ایک سیاسی تحریک ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سعودی عرب نے دوبارہ فضائی کارروائیاں شروع کرنے پر پہلی بار دارالحکومت میں حملے کیے ہیں

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق تازہ فضائی کارروائیوں میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو دارالحکومت صنعا کے مضافات میں اسلحے کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ صدارتی محل کے قریب اسلحے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے والے قافلے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

دوسری جانب تعز شہر میں شدید لڑائی کے نتیجے میں 20 شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے پر اے ایف پی کو بتایا کہ عدن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں جہاں باغیوں اور یمنی صدر عبدالربہ منصور ہادی کے حامیوں فوجیوں میں لڑائی ہو رہی ہے۔

Image caption علی عبداللہ صالح کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑنے والی فوج پر اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں

اس سے پہلے سنیچر کو یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے حوثی اتحادیوں سے سعودی عرب کی سربراہی میں قائم عرب اتحاد کی بمباری رکنے کے بعد مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنے کی اپیل کی تھی۔

سابق صدر علی عبداللہ صالح نے مختلف یمنی گروہوں اور سعودی عرب سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام امن مذاکرات کرنے کی بھی درخواست کی۔

گذشتہ ماہ یمن کے صد ہادی کی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی عرب نے یمن پر بمباری کا آغاز کیا تھا لیکن اب بھی یمن کے بڑے حصے پر حوثی باغیوں کا کنٹرول ہے۔

منگل کو سعودی عرب نے کہا تھا اس نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں تاہم ضرورت کے مطابق فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں اب تک یمن میں 1000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں

یمن کے یمن ٹوڈے چینل پر نشر کیے گئے ایک پیغام میں علی عبداللہ صالح کا کہا تھا کہ حوثیوں سے ’اتحادی فوجوں کی کارروائیوں کو روکنے کے بدلے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے فیصلوں کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل کرنے‘ کا کہا ہے۔

انھوں نے کہا:’میں انھیں اور ملیشیا، القاعدہ اور ہادی کے حامی ملیشیا سب سے اس خواہش کا اظہار کرتا ہوں کہ وہ تمام صوبوں اور خاص طور پر عدن سے واپس نکل جائیں۔‘

علی عبداللہ صالح کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑنے والی فوج کے متعدد یونٹس پر اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں لڑائی سے مارچ کےآخری ہفتے سے جاری بمباری میں کم از کم 1000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں 550 عام شہری اور 115 بچے بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں