90 سالہ خاتون 4 کروڑ ڈالر کےانعام سےمحروم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لیکن کیسینو نے یہ کہہ کر رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا کہ کمپیوٹر کی غلطی کی وجہ سے بونس کا پیغام آیا

امریکی ریاست الینوائے میں عدالتی فیصلے کے بعد ایک 90 سالہ خاتون کو جوئے خانے سے چار کروڑ 18 لاکھ ڈالر کی رقم نہیں مل سکے گی۔

خاتون کے مطابق انھوں نے جوئے خانے میں مشین کے ذریعے چار کروڑ 18 لاکھ ڈالر کا بونس جیتا تھا۔

لاس ویگس میں جواری کا جوئے خانے پر شراب پلانے کا الزام

پولینا میکی نے جوئے خانے کی مشین پر 185 کریڈٹ یا ایک ڈالر 85 پی جیتے اور ساتھ ہی مشین پر ایک پیغام نمودار ہوا کہ وہ چار کروڑ 17 لاکھ، 97 ہزار پانچ سو 50 ڈالر کا بونس بھی جیتی ہیں۔

لیکن کیسینو نے یہ کہہ کر رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا کہ کمپیوٹر کی غلطی کی وجہ سے بونس کا پیغام آیا۔

پولینا میکی کے 13 پوتے پوتیاں ہیں اور یہ کیس آئیووا کی مختلف عدالتوں میں چلتا رہا اور آخر میں سپریم کورٹ نے جوئے خانے کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

انھوں نے شکاگو ٹریبون کو بتایا:’ مجھے شروع میں سکوں کی مشین سے اتنی بڑی رقم جیتنے پر شک ہوا تھا، مجھے امید تھی کہ اس رقم کی مدد سے میں اپنے بچوں کی مالی مدد کر سکوں گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔‘

رقم کی ادائیگی کے تنازعے کے معاملے میں آئیووا کے کمیشن برائے گیمنگ اینڈ ریسنگ نے تحقیقات کے لیے مشین قبضے میں لے لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption عدالت میں یہ کیس سال 2010 سے چل رہا تھا

کمیشن نے مشین اور اس کے سافٹ ویئر کی ایک خود مختار لیبارٹری سے جانچ پرتال کرائی تھی۔

تحقیقات کرنے والے اہلکاروں کے مطابق مشنن میں انسٹال سافٹ ویئر زیادہ سے زیادہ ایک ہزار ڈالر تک بونس ادا کر سکتا ہے لیکن وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکے کہ مشین پر کس طرح لاکھوں ڈالر کا بونس نمودار ہوا۔

مشین تیار کرنے کمپنی ارسٹوکیٹ ٹیکنالوجیز کے مطابق وہ اس واقعے کے بارے میں آگاہ ہیں اور مشین کے پرانے ہونے کی وجہ سے اس نوعیت کی منفرد غلطی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق انھوں نے سال 2010 میں جوئے خانے کو اس بارے میں آگاہ کر دیا تھا اور ساتھ ہی مشورہ دیا تھا کہ وہ مشین میں بونس دینے کے سافٹ ویئر کو بند کر دیں۔

کمیشن کے مطابق مشین پر نمودار ہونے والا پیغام ٹھیک نہیں تھا اور مشین میں انسٹال گیم میں خرابی کی وجہ سے ہوا۔

عدالت نے سال 2013 میں جوئے خانے کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا تاہم پولینا میکی کے وکلا نے تحقیقات کرنے والے کمیشن کی دائرہ اختیار کو چیلنج کر دیا تھا تاہم 24 اپریل کو سپریم کورٹ نے اس کیس کو مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیا۔

اسی بارے میں