ایندھن کی عدم فراہمی، یمن میں امدادی سرگرمیاں بند ہونے کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ نے یمن میں جاری جنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی سرگرمیاں ایندھن کی فراہمی نہ ہونے کی صورت میں چند ہی دنوں میں بند ہو جائیں گی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے دفتر سے جاری ہونے والے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ چھ ہفتوں کے دوران 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تین لاکھ سے زائد نے اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کی۔

سیکرٹری جنرل بان کی مون کے مطابق مستند رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یمن کے شہر عدن میں بہت سے خاندان محصور ہیں جنھیں بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ادارے نے یمن میں جاری فضائی اور زمینی جنگ کو فوری طور پر بند کرنے کی اپیل بھی دہرائی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہے کہ شہریوں، عوامی تنصیبات جن میں ہسپتال اور امدادی ادارے اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر شامل ہیں پر حملے ناقابلِ قبول اور بین القوامی قوانین کے خلاف ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ جاری بمباری کی وجہ سے خوراک، صحت، اور ایندھن کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کے استعمال کے لیے تمام ائیرپورٹس بند ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن پر براہ راست حملے ہورہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن کے لیے بحری آمدورفت بھی تعطل کا شکار ہے۔ادارے نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امدادی سرگرمیاں ایندھن کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے چند ہی دنوں میں بند ہو جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption سعودی عرب نے 26 مارچ کو یمن میں موجود شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا

ملک میں صحت و صفائی اور پینے کے لیے پانی کی دستیابی میں مشکلات ہیں اور مواصلات کا نظام بھی تباہی کے قریب پہنچ چکا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے جنگ میں شامل فریقین سے کہا ہے کہ وہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے فوری طور پر بند کریں۔

اس کے علاوہ انھوں نے فریقین سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امدادی اداروں تک امداد کی ترسیل اور اسے لے کر متاثرین تک پہنچنے کو یقینی بنائیں۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کہا تھا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے بتایا ہے کہ ایندھن کی کمی کی وجہ سے اپنی سرگرمیاں ختم کررہا ہے۔

ادارہ ایک ماہ کے اندر 15 لاکھ متاثرین کو خوراک فراہم کر سکتا ہے۔ خوراک کا ذخیرہ گوداموں میں موجود ہے لیکن اس خوراک کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے ڈبلیو ایف او کو فوری طور پر دو لاکھ لیٹر ایندھن کی ضرورت تھی۔

خیال رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب نے اپنے حامیوں کے ساتھ ملکر 26 مارچ کو فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔

اسی بارے میں