کولمبیا کے خفیہ ادارے کی سابق سربراہ کو 14 سال قید

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انھیں فون کالز خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے اور سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے جرم میں یہ سزا سنائی گئی ہے

جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا کی خفیہ پولیس کی سابق سربراہ ماریہ ڈیل پلر پرٹاڈو کو سیاست دانوں، ججوں اور صحافیوں کے جاسوسی کرنے پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

51 سالہ ماریہ ڈیل پلر پرٹاڈو نے سنہ 2007 سے 2008 درمیان انتظامی سکیورٹی کے شعبے کی سربراہ کے طور پر کام کیا تھا اور اسی دوران بدانتظامیاں ہوئیں۔ اب یہ شعبہ تحلیل کر دیا گیا ہے۔

انھیں فون کالز خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے اور سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے جرم میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔ جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا تھا ان میں اس وقت کے صدر الوارو ارائب کے سیاسی مخالفین شامل تھے۔

سابق صدر ارائب کے چیف آف سٹاف برنارڈو موریرو کو ان اقدامات میں شامل ہونے کے باعث آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کولمبیا کی سپریم کورٹ نے سابق صدرالوارو ارائب کے اس سکینڈل میں مبینہ کردار کے حوالے تحقیقات کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

وہ اس وقت سینیٹر اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حزب اختلاف کی جماعت کے سربراہ ہیں۔

سابق صدرارائب نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ وہ منگل کو عدالت کے سامنے اپنا بیان دیں گے اور وہ انھیں سابقہ ماتحتوں کو دی جانے والا سزا پر دکھ ہے۔ انھوں نے کسی غیرقانونی طور پر خفیہ طریقے سے کالز ریکارڈ کرنے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

یہ الزامات سنہ 2010 میں الوارو ارائب کے صدر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد منظر عام پر آئے تھے۔

اس وقت خفیہ ادارے کی سربراہ ہرٹاڈو ملک چھوڑ کر چلی گئی تھیں اور انھوں نے پانامہ میں پناہ حاصل کر لی تھی۔

تاہم جنوری میں انھوں نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔