برمنگھم میں’ٹروجن ہارس ابھی ختم نہیں ہوا‘

Image caption اس سال کے شروع میں بی بی سی نے انکشاف کیا تھا کہ محکمۂ تعلیم کے پاس گورنروں کا کوئی مرکزی ریکارڈ نہیں

برطانیہ میں ہیڈ ٹیچروں نے خبردار کیا ہے کہ ’ٹروجن ہارس سکینڈل‘ کی تحقیقات کے باوجود انھیں دھمکیاں ملنے اور ڈرائے دھمکانے کا سلسلہ نہیں رکا۔

ہیڈ ٹیچروں کی ایک کانفرنس کو بتایا گیا ہے کہ دھمکیاں جاری ہیں جن میں مردہ جانوروں کو سکول کے میدان میں پھینکنا شامل ہے۔

برمنگھم میں اینڈرٹن پارک سکول کی ہیڈ سارہ ہیوِٹ کلارکسن کے مطابق ’ٹروجن ہارس ابھی ختم نہیں ہوا۔‘

برمنگھم:’طلبہ شدت پسندانہ خیالات سے محفوظ نہیں‘

نام نہاد ’ٹروجن ہارس‘ کے بارے میں تحقیقات ان الزامات کے بعد شروع ہوئی تھیں کہ سخت گیر مسلمان گروپ منظم کوششیں کر رہے ہیں کہ ہیڈ ٹیچروں کو کمزور کر دیا جائے اور برمنگھم کے سکولوں کو قبضے میں لے لیا جائے۔

ان دعووں پر اپنے ردِ عمل میں تعلیم کی سیکریٹری نِک مورگن کا کہنا تھا ’ہمارے سکولوں میں انتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں۔‘

ہیڈ ٹیچرز کی قومی ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس میں جو لِور پول میں منعقد ہوئی، جس میں خبردار کیا گیا کہ سکولوں میں انتہا پسندی کا مسئلہ ابتک حل نہیں کیا گیا۔ اس کانفرنس نے مقررین سے یہ بھی سنا کہ سکولوں کو ہوموفوبیا جیسے مسائل کی وجہ سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کانفرنس کے دوران ہیڈ ٹیچروں نے شکایت کی کہ تحقیقات کے نتیجے میں گورنروں کو روکا نہیں گیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ایک ڈیٹا بیس بنائی جائے جو ایسے افراد کی شناخت کرے جنھیں گورننگ باڈی سے ہٹایا گیا ہے۔

مز ہیوِٹ کلارکسن نے کہا ’ٹروجن ہارس ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہم میں سے جو اس مسئلے سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ تو شروعات ہے۔ اب بھی مردہ جانوروں کو سکولوں کے دروازوں پر ٹانگ دیا جاتا ہے، بِلے بلیوں کے ٹکڑے کر کے سکول کے میدان میں پھینک دیے جاتے ہیں اور سکولوں کے باہر اساتذہ پر اعتراض کیے جاتے ہیں کہ وہ ہوموفوبیا کے خلاف کیوں تعلیم دیتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مثال کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ ’جس ہیڈ ٹیچر نے بھی میرے بچوں کو یہ تعلیم دی کہ ہم جنس پرست ہونا بری بات نہیں، وہ میری بندوق کے سامنے ہوگا یا ہوگی۔‘

مز ہیوِٹ کلارکسن کے مطابق انھیں ایک ایسے سکول کا علم ہے جہاں بلی کے ٹکڑے کر کے سکول کے پلےگراؤنڈ میں پھینک دیے گئے جبکہ ایک اور سکول میں کتے کو سکول کی ریلنگ کے ساتھ لٹکا دیا گیا تھا۔‘

ہیڈ ٹیچروں نے آگاہ کیا کہ باوجود اس کے کہ ٹروجن ہارس کے دعووں ک بعد بڑی بڑی رپورٹیں تیار ہوئی تھیں لیکن پھر بھی جوابی ردِ عمل ناکافی ہے۔

ایلیسن مارشل نے کانفرنس کو بتایا کہ ’ہمارے پاس تمام شہادتیں موجود ہیں لیکن پھر بھی صورتِ حال یہ ہے کہ ٹروجن ہارس سکینڈل میں ملوث ہونے والے سکول کے کسی ایک گورنر سے نہ تحقیقات کی گئی ہے نہ اسے روکا گیا ہے۔ تو پھر انصاف کہاں ہے۔‘

ِم گالاکر نے مندوبین سے اپنے خطاب میں کہا کہ’اندھوں کو بھی نظر آ سکتا ہے‘ کہ گورننگ باڈیز کے ساتھ مسائل ہوں گے۔ گھٹیا اور لچے گورنروں کی وجہ سے ہم میں سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔‘

لِور پول کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا ان گورنروں کا ایک رجسٹر بنایا جائے جنھیں سکولوں سے ہٹایا گیا ہے یا ان پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ قرارداد کے مطالبے میں یہ بھی شامل ہے کہ مقامی اتھارٹی گورنروں کے مناسب ہونے یا نہ ہونے کی بھی پڑتال کر سکے۔

اس سال کے شروع میں بی بی سی نے انکشاف کیا تھا کہ محکمۂ تعلیم کے پاس گورنروں کا کوئی مرکزی ریکارڈ نہیں ہے۔

تعلیم کی سیکریٹری مسز مورگن نے ہیڈ ٹیچروں کی تشویش پر ردِ عمل میں کہا ہے ’ہمارے سکولوں میں انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں اور ہم ہر حال میں ہر قسم کی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا ’یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا حل راتوں رات ممکن نہیں۔ ہم نے ان افراد کو سکولوں سے نکالنے کے لیے اقدامات کیے ہیں جو برطانوی اقدار پر نہیں چلتے اور ہم ایسے اقدامات آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔‘

اسی بارے میں