متنازع کانفرنس کےمبینہ حملہ آور کی ’شناخت‘

تصویر کے کاپی رائٹ HO via ABC
Image caption ایلٹن سمپسن کے خلاف دہشتگردی کے شبے میں پہلے بھی تحقیقات ہو چکی ہیں: امریکی ذرائع ابلاغ

امریکی حکام نے ریاست ٹیکسس کے شہر ڈیلس کے نواح میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں سے متعلق منعقد ہونے والی کانفرنس کے باہر فائرنگ کرنے والے دو افراد میں سے ایک کی شناخت ظاہر کی ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک حملہ آور کی شناخت ایری زونا کے رہائشی ایلٹن سمپسن کے نام سے ہوئی ہے، جن سے دہشت گردی کے شبے میں پہلے بھی تفتیش کی جا چکی تھی۔

پولیس نے دونوں حملہ آوروں کو موقع پر ہلاک کر دیا تھا۔اس حملے میں ایک سکیورٹی افسر زخمی ہوا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملے کے بعد ایف بی آئی نے امریکی ریاست ایری زونا کے شہر فینکس میں ہلاک ہونے والے دونوں حملہ آوروں کے اپارٹمنٹ کی تلاشی لی ہے۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اپارٹمنٹ پر کوئی فرد موجود نہیں ہے تاہم شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں

درسی کتب میں متنازع کارٹون کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی حملہ آوروں کے گھر کی تلاشی لے رہا ہے

متنازع مقابلہ

پیغمبرِ اسلام کے خاکے بنانے کا مقابلہ بھی اس تقریب کا حصہ تھا۔ اس حوالے سے واشنگٹن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے نے بتایا کہ یہ تقریب اپنے آغاز سے قبل ہی متنازع بن چکی تھی۔

اس مقابلے کا انعقاد قدامت پسند سیاسی گروپ امریکن فریڈم ڈیفنس انیشی ایٹو نے کیا تھا جو اپنے انتہائی سخت گیر اسلام مخالف موقف کے لیے جانا جاتا ہے اور اس نے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے پاس اسلامک سنٹر کی تعمیر کی بھی مخالفت کی تھی۔

اس تنظیم کی سربراہ معروف متنازع بلاگر پامیلا گیلر ہیں۔ ان کا شمار اسلام مخالف گروہ میں کیا جاتا ہے۔ پامیلا گیلر کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں آزادیِ رائے پرتشدد حملے کی زد میں ہے۔ اس تقریب میں ڈنمارک کے انتہائی دائیں بازو کےسیاستدان گیرٹ ولڈرز بھی مقررین میں شامل تھے۔

منتظمین نے مقابلے فاتح کے لیے دس ہزار امریکی ڈالر کی انعامی رقم رکھی گئی تھی۔

گارلینڈ حکام نے فیس بک پر تحریر کیا ہے کہ ’آج جوں ہی کرٹس کلویل سینٹر میں محمد آرٹ نمائش کی تقریب اپنے اختتام کے قریب پہنچی دو آدمی سنٹر کے باہر آئے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں آدمی مسلح تھے اور انھوں نے گارلینڈ کے آئی ایس ڈی سکول کے سکیورٹی افسر پر فائرنگ شروع کر دی، وہاں موجود گارلینڈ پولیس نے فائرنگ کر کے دونوں کو ہلاک کر دیا۔‘

جس کار میں حملہ آور آئے تھے اس کے بارے میں پولیس کو خدشہ تھا کہ کہیں اس میں بم نہ ہو، اس لیے جائے حادثہ پر بم سکواڈ بلالیا گیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس حکام نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا جو بظاہر غیر مسلح تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS

اس مقابلے میں شریک ایک شخص نے خبررساں اداے اے پی کو بتایا کہ انھوں نے ایک گزرتی ہوئی موٹر کار سے 20 گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں اس کے بعد دو علیحدہ گولیوں کی آوازیں آئیں۔

اسی تقریب میں اسلام مخالف ڈچ سیاست داں گیئرٹ وائلڈرز بھی شرکت کر رہے تھے۔ انھوں نے ٹویٹ کیا کہ گولیاں چلی ہیں اور اب وہ اس عمارت سے بحفاظت باہر آ گئے ہیں۔

مذہب اسلام میں پیغمبر کی تصویر کشی ممنوع ہے اور یہ مسلمانوں کو ناگوار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS

خیال رہے کہ جب ڈنمارک کے اخبار جیلینڈز پوسٹن نے مبینہ طور پر پیغمبر محمد کا تضحیک آمیز خاکہ بنایا تھا تو دنیا بھر میں اس کے خلاف احتجاج ہوا تھا۔

جبکہ رواں سال جنوری میں فرانسیسی میگزین چارلی ایبڈو میں اسلام پسند بندوق برداروں نے 12 افراد کو ہلاک کر دیا تھا کیونکہ اس میگزین نے اسی قسم کے خاکے شائع کیے تھے۔

اسی بارے میں