دمشق میں فوج پر خودکش حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے والی بغاوت میں دارالحکومت دمشق میں متعدد دھماکے ہو چکے ہیں تاہم وہاں خود کش دھماکوں کے واقعات شاز و نادر ہی پیش آتے ہیں

شام میں حکام اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق میں ایک خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج نے ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ کی جانب سے رکن الدین کے علاقے میں کیے جانے والے حملے کو ناکام بنا دیا۔ حکام کے مطابق اس علاقے میں متعدد سکیورٹی تنصیبات قائم ہیں۔

برطانیہ میں مقیم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کا بظاہر ہدف شامی فوج کے ساز و سامان کی ترسیل کو نشانہ بنانا تھا۔

تنظیم کے مطابق خود کش حملے میں جنرل محمد عید اور ان کے دو سکیورٹی گارڈ زخمی جبکہ تیسرا گارڈ ہلاک ہو گیا ہے، تاہم شام کے سکیورٹی ذرائع نے اس بات کی تردید کی ہے کہ خود کش حملہ آور کا ہدف جنرل محمد عید تھے۔

پیر کو ہونے والے خود کش حملہ شامی فوج کے اسلحہ اور سپلائی ڈویژن کے قریب ہوا۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکہ ایک چھوٹے موٹر سائیکل کے ذریعے کیا گیا جس کے بعد 15 منٹ تک فائرنگ بھی کی گئی۔

ایک سکیورٹی اہل کار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دہشت گرد گروپ موٹر سائیکلوں پر رکن الدین میں داخل ہوئے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی شروع کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیر کو ہونے والا خود کش حملہ شامی فوج کے اسلحے اور سپلائی ڈویژن کے قریب ہوا

سکیورٹی اہل کار نے مزید بتایا کہ جب دہشت گردوں کو اس بات کا احساس ہوا کہ وہ بھاگ نہیں سکتے تو ان میں سے ایک نے خود کش جیکٹ کے ذریعے دھماکہ کر دیا تاہم سکیورٹی فورسز نے دیگر باغیوں کو ہلاک کر دیا۔

برطانیہ میں مقیم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری گروپ کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ خود کش حملے میں جنرل عید بھی زخمی ہوئے تاہم سکیورٹی اہل کار نے اس کی تردید کی ہے۔

رامی عبدالررحمٰن کے مطابق رکن الدین میں متعدد سینئیر حکام رہتے ہیں اور وہاں شام کی خفیہ ایجنسی کی متعدد شاخوں کا ساز و سامان بھی ہے۔

رکن الدین کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ شامی فوج نے خود کش دھماکے کے بعد مرکزی شاہراہوں کو سیل کر کے کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے والی بغاوت میں دارالحکومت دمشق میں متعدد دھماکے ہو چکے ہیں تاہم وہاں خود کش دھماکوں کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔

اسی بارے میں