الیکشن 2015: ووٹروں کو قائل کرنے کی آخری کوشش

ڈیوڈ کیمرون تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈیوڈ کیمرون کہتے ہیں کہ وہ ملک کو سب سے پہلے ترجیح دیں گے

برطانیہ میں سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما ملک کے طول و عرض میں اہم نشستوں پر ان ووٹروں کو قائل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جنھوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کس جماعت کو ووٹ دینا ہے۔ انتخابی مہم اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

کنزرویٹو جماعت کے رہنما ڈیوڈ کیمرون نے خبردار کیا ہے کہ ایس این پی کی حمایت والی لیبر حکومت ایک ’خوفناک منظر‘ ہو گا۔ وہ لندن کے میئر کے ساتھ تھے۔

ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ لیبر این ایچ ایس ہسپتالوں کو کنزرویٹو حکومت کے دور میں کی جانے والی بے رحم بجٹ میں کٹوتیوں سے بچائے گی۔

نِک کلیگ نے کہا ہے کہ 7 مئی کے بعد لیبرل ڈیموکریٹس ملک میں استحکام کی ضمانت ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نکولا سٹروجن کہتی ہیں کہ انتخابات کا مطلب سکاٹ لینڈ کی آواز کو طاقت کے سرچشموں تک پہنچانا ہے

نائب وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ اگر کوئی جماعت بھی واضح اکثریت کے ساتھ نہیں جیتتی اور کنزرویٹو یا لیبر اقلیت کی بنیاد پر حکومت چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو امکان ہے کہ کرسمس سے پہلے دوبارہ انتخابات ہو جائیں گے۔

یوکپ کے رہنما نائیجل فراج نے کینٹ میں دن گزارا جہاں انھیں امید ہے ان کی جماعت نشست جیت جائے گی۔ ان کی جماعت نے ڈیلی ٹیلیگراف میں ایک دو صفحوں کا اشتہار دیا ہے جس میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ووٹ دیتے وقت اپنے دل کی سنیں۔

انتخابات سے دو دن پہلے کی باتیں

ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ اگر وہ واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام بھی رہے تو وہ ’ملک کو پہلے رکھیں گے‘

ایڈ ملی بینڈ نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ این ایچ ایس کو بچانے کے لیے لیبر کو ووٹ دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption نِک کلیگ نے کہا ہے کہ 7 مئی کے بعد لیبرل ڈیموکریٹس ملک میں استحکام کی ضمانت ہوں گے

نک کلیگ نے کہا ہے کہ ریفرنڈم لیبرل ڈیموکریٹس کے لیے اتحاد کی ’سرخ لکیر‘ نہیں تھا۔

ایس این پی کی رہنما نکولا سٹروجن نے سکاٹ لینڈ کے ارکانِ پارلیمان کے بغیر برطانوی حکومت کے جائز ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔

گرین پارٹی نے ووٹروں سے کہا ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی پر پیغام دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایڈ ملی بینڈ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت این ایچ ایس میں روح پھونکے گی

انتخابی جائزوں کے مطابق انتخابات کے متعلق ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا اور آخری دنوں میں پارٹیاں اپنے بنیادی پیغامات پر توجہ دے رہی ہیں اور اگر ہنگ پارلیمان کے بعد کے انتخابی معاہدوں پر بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

لیبر این ایچ ایس پر انتخابی مہم چلا رہی ہے، اور اس نے ایک دستاویز بھی شائع کی ہے جو کہ اس کے بقول لیک شدہ دستاویز ہے جس میں کچھ ہسپتالوں کو دی جانے والی رقم میں بھی کمی دکھائی گئی ہے۔

یہ اعدادوشمار این ایچ ایس پروائیڈرز نامی گروہ سے حاصل کیے گئے ہیں جو این ایچ ٹرسٹس کے لیے لابی کرتا ہے۔

لیبرپارٹی نے کہا ہے کہ اگلے سال اپریل تک انگلینڈ کی 240 میں سے 98 ٹرسٹس میں 750 ملین پاؤنڈ تک خسارہ ہو سکتا ہے۔ این ایچ ایس کا ٹوٹل بجٹ 100 ارب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نائیجل فراج کہتے ہیں کہ ووٹ دیتے وقت اپنے دل کی سنیں

بیڈفورڈ سے بات کرتے ہوئے لیبر رہنما ملی بینڈ نے کہا کہ این ایچ ایس اقتصادی توپ کا گولہ ہے جس کی وجہ سے دو تہائی ہسپتالوں کو اس سال معقول حد تک کٹوتیاں کرنا پڑیں گی۔ انھوں نے کہا کہ ہیلتھ سروس کو صرف لیبر حکومت ہی بچا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ انتخابات ’ہماری تاریخ کے سب سے کانٹے دار انتخابات ہوں گے۔‘

ڈیوڈ کیمرون نے بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کو بتایا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں این ایچ ایس نے حقیقی ترقی کی ہے اور ان کی جماعت ہسپتالوں کو وہ پیسہ دے گی جس کی ان کو ضرورت ہے۔

اسی بارے میں