امریکہ اور کیوبا کے درمیان فیری سروس کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپریل میں امریکی ممالک کے سربراہ اجلاس میں امریکی صدر اوباما اور راؤل کاسترو نے ہاتھ ملا کر رشتوں میں گرمجوشی کا مظاہرہ کیا

گذشتہ 50 سال سے زیادہ کے عرصے کے دوران پہلی بار امریکہ اور کیوبا کے درمیان فیری سروس شروع کی جا رہی ہے۔

امریکی حکومت نے نئی فیری سروس کی منظوری دے دی ہے۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فیری سروس سنہ 1960 میں اس وقت معطل ہو گئی تھی جب امریکہ نے کیوبا پر تجارتی پابندیاں عائد کی تھی۔

لیکن گذشتہ سال دسمبر میں واشنگٹن نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو بحال کرنے کا اعلان کیا۔

اس کے بعد امریکی حکومت نے کیوبا سے پابندی ہٹا لی ہے اور کئی فیری کمپنیوں کا کہنا ہے انھیں لائسنس جاری کیا گیا ہے۔

میامی میں مبنی یونائٹڈ امریکن شیپنگ سروسز کے صدر جوزف ہنسن نے کہا: ’آج لیا جانے والے قدم آگے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اگر سب کچھ درست رہا تو ستمبر تک ہم فیری سروس شروع کر دیں گے۔‘

فلوریڈا میں فورٹ لاڈرڈیل کی ہوانا فیری پارٹنرز کا کہنا ہے کہ انھیں بھی لائسنس جاری کیا گیا ہے۔

اس فیری کمپنی نے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا: ’یہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ صدر اوباما کا ان کی قیادت کے لیے شکریہ جن کے ہم بہت احسان مند ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فیری سروس سے قبل نیویارک سے کیوبا کے لیے جیٹ بلیو کی ایک پرواز کو بھی اجازت دی گئی ہے

کیوبا میں بی بی سی کے نمائندے ول گرانٹ کا کہنا ہے کہ اس اعلان کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ فوری طور پر کشتیاں کیوبا کے ساحل کے لیے اپنی خدمات شروع کر پائیں گی کیونکہ دونوں ممالک میں موجود دفتری ضابطوں سے نکلنا ابھی باقی ہے۔

تاہم انھوں نےکہا کہ اس کے ذریعے واشنگٹن نے مزید اشارہ دیا ہے کہ وہ کیوبا کو تنہا کرنے کی ماضی کی اپنی پالیسی سے آگے تعاون کے ایک نئے عہد کا آغاز کر رہا ہے۔

اس سے قبل جیٹ بلو کی نیویارک سے ایک پرواز کا پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے۔

بہر حال نئی پرواز اور کشتی سروسز کے باوجود امریکی شہریوں پر کیوبا جانے پر ابھی بھی پابندی جاری ہے۔

صرف وہی افراد کیوبا جا سکتے ہیں جن کے پاس 12 مختلف درجوں میں درست کاغذات موجود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کشتیوں کو کیوبا سامان لے جانے کی بھی اجازت ہوگی۔

خیال رہے کہ جنوبی فلوریڈا سے کیوبا کا پانی کے راستے فاصلہ 150 کلومیٹر ہے۔

اسی بارے میں