’تصادم کے باعث تین کروڑ سے زائد افراد کی نقل مکانی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق شام میں پانچ سال سے جاری تصادم میں 76 لاکھ افراد نے اپنے گھر بار تصادم کے باعث چھوڑے

ایک رپورٹ کے مطابق شورش اور تصادم کے باعث دنیا بھر میں تین کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد نے اپنے ملکوں کے اندر نقل مکانی کی ہے۔

ان میں سے تقریباً ایک تہائی افراد نے گذشتہ برس نقل مکانی کی اور ایک اندازے کے مطابق اوسطاً 30 ہزار روزانہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوئے۔

ناوریجین رفیوجی کونسل کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں ان اعداد و شمار کو حالیہ دور میں بدترین قرار دیا ہے۔

عراق، جنوبی سوڈان، شام، ڈیموکریٹک رپبلک کانگو اور نائجیریا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لوگوں نے سب سے زیادہ اندرون ملک نقل مکانی کی۔

نارویجین رفیوجی کونسل کے سیکریٹری جنرل جان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کو عالمی سطح پر سیاسی رہنماؤں کو جھنجھوڑ دیناچاہیے۔

اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا: ’عالمی سفارت کار، اقوام متحدہ کی قراردادیں، امن مذاکرات اور جنگ بندی کے معاہدے سیاسی اور مذہبی مقاصد کے زیراثر اسلحہ بردار افراد کے خلاف جنگ ہار چکے ہیں۔‘

نارویجین رفیوجی کونسل کی سالانہ انٹرنل ڈسپلیسمنٹ مانیٹرنگ سینٹر(آئی ڈی ایم سی) رپورٹ کے مطابق شام میں اندرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق شام میں پانچ سال سے جاری تصادم میں 76 لاکھ افراد نے اپنے گھر بار تصادم کے باعث چھوڑے، جو کل آبادی کا کم ازکم 35 فیصد حصہ بنتے ہیں۔

  • تین کروڑ ٨٠ لاکھ کی تعداد لندن، نیویارک اور بیجنگ کی کل آبادی کے برابر بنتے ہیں۔
  • حال ہی میں نقل مکانی کرنے والے افراد کے ٦٠ فیصد حصے نے گذشتہ سال نقل مکانی کی اور ان کا تعلق صرف پانچ ممالک سے ہے: عراق، جنوبی سوڈان، شام، ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو اور نائجیریا۔
  • عراق میں دولت اسلامیہ کے مقبوضہ علاقوں سے تقریبا بائیس لاکھ افراد نے اندرون ملک نقل مکانی کی۔

یوکرین میں روس نواز باغیوں اور سرکاری فوجوں کے درمیان لڑائی سے سنہ 2014 میں 646,500 افراد نے اندرون ملک نقل مکانی کی۔ اندرون ملک نقل مکانی کے حوالے سے یوکرین کا نام پہلی بار اس فہرست میں شامل ہوا ہے۔

گذشتہ برس اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جنگ اور ایذا رسائیوں کے باعث پناہ گزین کے طور پر زندگی بسر کرنے والے پانچ کروڑ افراد کی تعداد پہلی مرتبہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تجاوز کرچکی ہے۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کمیونٹی کو تنازعات سے بچنے اور نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کے لیے بہت زیادہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں