روس کے جدید ترین جنگی ہتھیار منظرعام پر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کو شکست دینے کی 70ویں سالگرہ کے موقعے پر روس اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ کرے گا۔

نو مئی کو منعقد ہونے والی پریڈ سے پہلے وسطی ماسکو میں اس کی ریہرسل کے موقعے پر پہلی بار چند جدید ترین ہتھیاروں کو منظرعام پر لایا گیا ہے۔

سامنے لائے جانے والی ہتھیاروں میں جدید ترین ٹینک آرماتا ٹی 14 بھی شامل ہے۔ روس کی اس ایجاد کے بارے میں کافی باتیں کی جا رہی ہیں۔

آرماتا ٹی 14 کو سویت یونین زمانے کے ٹینکوں کی جگہ لینے والا جدید ترین ٹینک قرار دیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آرماتا ٹی 14 کو سویت یونین زمانے کے ٹینکوں کی جگہ لینے والا جدید ترین ٹینک قرار دیا جا رہا ہے

روسی فوج کے مطابق یہ ٹینک بہت حد تک خودکار ہے اور اس کی بنیاد پر مستقبل میں روبوٹک ٹینک پر تیار کیا جا سکتا ہے۔

اس میں ریموٹ کنٹرول مشین گن نصب ہے جبکہ 125 ایم ایم ہموار دہانے والی توپ نہ صرف گولے بلکہ گائیڈڈ میزائل فائر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

اس ٹینک کا تین رکنی عملہ اگلے حصے میں واقع مضبوط ترین بکتر بند حصے میں موجود ہوتا ہے اور اس طرح یہ ٹینک کے فائرنگ سسٹم سے دور ہوتا ہے۔

آرماتا ٹی 14 کے اندر مختلف نوعیت کی عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔ یہ نہ صرف ٹینک ہو گا بلکہ ضرورت پڑنے پر انجینیئرنگ گاڑی، راکٹ داغنے والا لانچر اور اس سے ملتے جلتے کام کر سکتا ہے۔

2020 میں روسی فوج کو آرماتا ٹینکوں کی فراہمی شروع ہو جائے گی اور یہ سویت دور کے ٹینکوں کی جگہ لیں گے۔ روسی فوج کو 23 سو آرماتا ٹی 14 ٹینک دیے جائیں گے۔

ہفتہ وار جریدے جینز ڈیفنس کے مطابق ٹی 14 ٹینک اور دیگر مسلح سسٹمز روس کے اپنے تیار کردہ ہیں اور 1960 اور 1970 کی دہائی کے بعد یہ مسلح بکتر بند گاڑیوں میں آنے والی اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔

کرگانیٹس 25 مشینی انفینٹری جنگی گاڑی

Image caption یہ نیا ڈیزائن سویت دور کے بی ٹی آر اور بی ایم پی بکتر بند گاڑیوں کی جگہ لے گا

کرگانیٹس25 کی دو اقسام تیار کی گئی ہیں۔ اس میں ایک بی ٹی آر ہیں اور دوسری بی ایم آر ہے۔ دونوں بکتر بند گاڑیاں فوجیوں کو لیے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن بی ایم پر طاقتور مشین گن اور فائرنگ سسٹم نصب ہے۔

اس پر نصب بندوقیں خودکار طریقے سے کام کرتی ہیں اور انھیں عملے اور پیادہ فوج سے الگ کیا جا سکتا ہے۔

ڈیفنس جریدے کے مطابق ان بکتر بند گاڑیوں پر 57 ایم ایم یا 30 ایم ایم دہانے کی توپ بھی نصب کی جا سکتی ہے۔

یہ نیا ڈیزائن سویت دور کے بی ٹی آر اور بی ایم پی بکتر بند گاڑیوں کی جگہ لے گا۔

بوم رینگ، آرمرڈ بکتر بند گاڑی

Image caption روس کی سٹریٹیجک راکٹ فورس کو 2009 سے آر ایس 24 کی فراہمی شروع ہوئی تھی اور یہ topol M نظام کی جدید شکل ہے۔

اس مسلح بکتر بند گاڑی کو زمینی کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے لیکن یہ پانی میں بھی کام کر سکتی ہے۔

اس بکتر بند گاڑی کے ڈھانچے کو دوسری قسم کی گاڑیوں کے پلیٹ فام کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جینز کے مطابق یہ مغرب کی آٹھ ٹائروں والی بکتر بند گاڑی سے ملتی جلتی ہے اور اس میں تمام ٹائروں کو ایک ساتھ انجن سے طاقت ملتی ہے۔

یہ ان بکتر بند گاڑیوں میں شامل ہے جن کی روس کی وزارتِ دفاع نے اپنی ویب سائٹ پر تشہیر کی ہے۔

آر ایس 24 یارز بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل

روس کی سٹریٹیجک راکٹ فورس کو 2009 سے آر ایس 24 کی فراہمی شروع ہوئی تھی اور یہ topol M نظام کی جدید شکل ہے۔

یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کو موبائل پلیٹ فام کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے۔

Image caption روس کی وزارتِ دفاع کے مطابق توپ 70 کلومیٹر تک مار کر سکتی ہے

کوالتسیا ایس وی خود کار توپ

یہ خود کار طریقے سے کام کرنے والی توپ کا ایک نیا نظام ہے اور اس کا ڈھانچہ آرماتا ٹینک سے ملتا جلتا ہے۔ اس میں 125 ایم ایم کی توپ نصب ہے اور اس کا وزن 55 ٹن ہے۔

روس کی وزارتِ دفاع کے مطابق توپ 70 کلومیٹر تک مار کر سکتی ہے۔

Image caption اس میزائل سسٹم پر ریڈار بھی نصب ہے اور یہ زیادہ سے زیادہ 82 ہزار 500 فٹ بلندی تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے

بک، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کا نظام

بک دفاعی نظام کی بھی ماسکو میں نمائش کی گئی۔ اس سے ملتے جلتے کئی دفاعی نظام اس وقت روسی فوج کے زیر استعمال ہیں۔ یہ چین اور بھارت سمیت دیگر کئی ممالک کو بھی فروخت کیے گئے ہیں۔ شبہ ہے کہ اسی میزائل سسٹم کی مدد سے ملائیشیا کے مسافر بردار طیارے ایچ ایم 17 کو مغربی یوکرین کے اوپر مار گرایا گیا تھا۔اس میزائل سسٹم پر ریڈار بھی نصب ہے اور یہ زیادہ سے زیادہ 82 ہزار 500 فٹ بلندی تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

Image caption اس پر ہدف کی نشاندہی کرنے والا نظام، ٹی وی کیمرا، انفرا ریڈ اور لیزر ٹیکنالوجی نصب ہے

کورنیٹ ڈی ٹینک شکن راکٹ سسٹم

روس نے یہ ٹینک شکن راکٹ سسٹم سال 2009 میں متعارف کرایا تھا اور اب اس میں مزید بہتری لائی گئی ہے۔ یہ راکٹ نہ صرف ٹینکوں بلکہ جہازوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کا گولہ چار فٹ موٹی دھاتی چادر کے آر پار ہو سکتا ہے۔ اس پر ہدف کی نشاندہی کرنے والا نظام، ٹی وی کیمرا، انفرا ریڈ اور لیزر ٹیکنالوجی نصب ہے۔

اسی بارے میں