عدن میں کشتی پر شیلنگ سے درجنوں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یمن میں طبی عملے کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی شہر عدن کی بندرگاہ کےقریب ایک کشتی پر ہونے والے شیلنگ کے نتیجے میں کم سے کم 32 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

طبی عملے کے مطابق کشتی پر سوار افراد یمن میں جاری شدید لڑائی سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے۔

عدن میں موجود ایک عینی شاید نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حوثی باغیوں نے التوحی البرائقہ جانے والی اس کشتی پر شیلنگ کی۔

خیال رہے کہ حوثی باغیوں اور صدر عبد ربا منصور ہادی کے حامی مسلح افراد کے درمیان التوحی پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے۔

اس سے پہلے غوثی باغیوں کے ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی اتحادیوں کے شمال مغربی یمن پر 30 سے زائد فضائی حملوں میں کم سے کم 34 شہری ہلاک ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق اتحادی طیاروں نے سادا اور ہجاہ کے صوبوں میں 30 سے زائد فضائی حملے کیے۔

اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے منگل کو نجران پرحوثیوں کے حملے کا جواب ہے جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے یمن کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔

ادھر یمن میں کام کرنے والی 22 بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں ایندھن کی کمی ان کے کام میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔

عدن میں صدر عبد ربا منصور ہادی کے حامی مسلح افراد اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

التوحی کے رہائشیوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا سعودی اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں کی مدد سے باغیوں کے حملے کو پسپا کر دیا گیا تاہم اس حملے میں کم سے کم 40 افراد ہلاک ہوئے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں دس ممالک پر مشتمل اتحادی یمن کے صدر عبد ربا منصور ہادی کو ان کے عہدے پر بحال کرنا چاہتے ہیں تاہم انھیں ابھی تک کامیابی نہیں ملی ہے۔

عدن میں تازہ لڑائی امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے دورۂ ریاض سے پہلے شروع ہوئی ہے۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ نےدجیبوتی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یمن میں انسانی ہمدری کی بنیاد پر امداد پہنچانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

اسی بارے میں