سعودی اتحادیوں کی یمن پر فضائی کارروائی، ’ 43 شہری ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے منگل کو نجران پرحوثیوں کے حملے کا جواب ہے جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے

حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بارڈر کے قریب نجران قصبے پر کی گئی شیلنگ کے جواب میں سعودی اتحادیوں نے شمال مغربی یمن پر 30 سے زائد فضائی حملے کئے ہیں۔

باغیوں کے ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ سادا اور ہجاہ میں فضائی حملوں کے نتیجے میں کم سے کم 43 شہری ہلاک اور 100 زخمی ہوئے ہیں۔

اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے منگل کو نجران پرحوثیوں کے حملے کا جواب ہے جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب 22 امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی قلت امدادی کاموں میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔

ایندھن کی قلت کا مطلب ہے کہ پورے علاقے کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں جبکہ طبی سہولیات یا تو روک دی گئی ہیں اور یا پھر طبی عملہ بنیادی کام بھی نہیں کر پا رہا ہے۔

سیوو دی چلڈرن کے ڈائریکٹر ایڈورڈ سینتیاگو کا کہنا ہے کہ ’ لاکھوں زندگیاں خطرے میں ہیں خاص طور پر بچے، اور جلد ہی ہم ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔‘

ایندھن کی قلت سے تقریباً 20 لاکھ بھوکے افراد تک کھانا پہنچانا بھی نہایت مشکل ہو جائے گا۔

ایجنسیوں نے اتحادیوں کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد دینے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بجائے حالیہ تنازع کو فوراً اور مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

منگل کو باغی جنگجوؤں نے یمن بارڈر سے تقریباً 32 کلومیٹر دور نجران قصبے پر مارٹر اور کٹوشا راکٹوں سے حملہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی قلت امدادی کاموں میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے لڑکیوں کے ایک سکول اور ہسپتال کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل نے اتحادیوں کے ترجمان بریگیڈیر جنرل احمد ال آسیری کے حوالے سے لکھا ہے کہ :اس قسم کے اقدام کی امید ہے اور ہم ان کا بھرپور جواب بھی دیتے رہیں گے۔‘

خبر رساں ادارے سبا کے مطابق دھمر صوبے میں پولیس اکیڈمی پر حملے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

منگل کو اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ یمن پر 26 مارچ سے اتحادیوں کی جانب سے شروع ہونے والی فضائی حملوں کی مہم کے دوران اب تک کم سے کم 646 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دس ممالک پر مشتمل اتحادیوں کا کہنا ہے کہ وہ یمن کے صدر عبد ربا منصور ہادی کو ان کے عہدے پر بحال کرنا چاہتے ہیں۔

سعودی اکثریتی والی گلف تعاون کونسل نے ہادی کے ریاض میں یمنی سیاسی دھڑے سے حالیہ ملکی بحران کو ختم کرنے کے حوالے سے ہونے والی ملاقات میں سربراہی کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

تاہم حوثیوں نے سعودی عرب میں ہونے والی اس ملاقات میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ کسی غیر جانبدار مقام پر مزاکرات کرانے کے حق میں ہیں۔

اسی بارے میں