انڈونیشیا میں گھوڑے والی لائبریری

سروری تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سروری کی خواہش ہے کہ ان کی موبائل لائبریری دن رات ترقی کرے

انڈونیشیا میں اگرچہ ناخواندہ بالغوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے لیکن ایک علاقہ ایسا بھی ہے جس میں تقریباً دس لاکھ افراد ایسے ہیں جو پڑھ نہیں سکتے۔ مرکزی جاوا میں بی بی سی کی ملاقات ایک ایسے شخص اور اس کے گھوڑے سے ہوئی جو لوگوں کی کتابوں تک رسائی بہتر بنانے کے مشن پر نکلے ہوئے ہیں۔

بالغ مرد کے کاندھوں تک مشکل سے پہنچنے والا لونا ایک جنگلی گھوڑا ہوا کرتا تھا اور انڈونیشیا میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے یہ ایک انتہائی انہونی سی چیز لگتا ہے۔

لونا کی دیکھ بھال 42 سالہ رضوان سروری کرتے ہیں جو جاوا کی جزیرے پربالنگا کے علاقے میں سیرانگ گاؤں میں رہتے ہیں۔

یہ ایک گرم مرطوب علاقہ ہے جو انڈونیشیا کے سب سے زیادہ فعال آتش فشاں پہاڑ ماؤنٹ سلامت کے کنارے واقع ہے۔

چھوٹے چھوٹے دیہات پر مشتمل اس علاقے میں سروری اور لونا حالیہ مہینوں میں مختلف برادریوں کے درمیان ایک ضروری لنک بن گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سروری کبھی کبھار اپنی بیٹی کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے

جنوری میں سروری نے ایک موبائل لائبریری شروع کی جسے کداپستاکا یعنی گھوڑے والی لائبریری کہا جاتا ہے۔

وہ لونا کی کمر پر کتابیں لادے مختلف دیہات کا سفر کرتے ہیں۔

وہ ہر منگل، بدھ اور جمعرات کو سکولوں کا دورہ بھی کرتے ہیں۔ کبھی کبھار وہ اپنے ساتھ اپنی بیٹی انڈریانی فطماوتی کو بھی لے جاتے ہیں۔

بچوں اور گاؤں کے لوگوں کو کتابیں ادھار لینے کے لیے کوئی پیسے نہیں دینے پڑتے اور سروری بھی اس سکیم سے کوئی پیسہ کمانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

انھوں نے بی بی سی انڈونیشیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے گھوڑوں سے پیار ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اس مشغلے سے لوگوں کو فائدہ ہو۔‘

کداپستاکا کا خیال گھوڑوں کے ایک اور شوقین نروان آروسکا کا تھا جو کہ سروری کے دوست ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سروری گھوڑے پر کتابوں کے ڈبے رکھ کر لے جاتے ہیں

’انھوں نے مجھے کہا: کیا ہم اپنے مشغلے کے ذریعے معاشرے کی مدد کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا مجھے اس میں دلچسپی ہے پر مجھے یہ نہیں معلوم کہ ایسا کیوں کر کیا جا سکتا ہے۔‘

تب انھیں گھوڑوں کو استعمال کرتے ہوئے موبائل لائبریری کا خیال آیا۔ مجھے یہ آئیڈیا پسند آیا لیکن افسوس کہ میرے پاس کتابیں نہیں تھیں۔ سو انھوں نے مجھے کتابوں کے ڈبے بھیج دیے۔‘

یونیسکو کے مطابق انڈونیشیا نے حالیہ برسوں میں بالغوں میں ناخواندگی کم کرنے کے کئی اقدامات کیے ہیں جس کی وجہ سے سنہ 2011 میں ناخواندہ افراد کی تعداد 15.4 ملین سے کم ہو کر 6.7 ملین ہو گئی ہے۔

تاہم یونیسکو کا کہنا ہے کہ مرکزی جاوا کے رضوان علاقے میں ناخواندہ افراد کی تعداد 977,000 ہے۔

گھوڑوں کی دیکھ بھال کرنے والے ایک پروفیشنل کی حیثیت سے سروری کے اپنے کوئی جانور نہیں ہیں۔ سو کیا انھوں نے گھوڑے کو بطور موبائل لائبریری استعمال کرنے کی اجازت لی تھی؟ ’نہیں‘، انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’اس گھوڑے کا مالک گاؤں سے کافی دور رہتا ہے اور اس نے گھوڑوں کو کافی عرصے سے نہیں دیکھا۔ میں اس کے متعلق ذرا افسردہ ہوں۔‘

سروری نے ان تین گھوڑوں میں سے جن کی وہ دیکھ بھال کرتے ہیں، لونا کا بطور ساتھی انتخاب کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بچے زیادہ تر کامک کتابیں پسند کرتے ہیں

’یہ ایک جنگلی گھوڑا تھا، لیکن پھر میں نے اسے سدھار لیا۔ لونا نے کسی کو نہ تو کبھی لات ماری اور نہ ہی کاٹا اور جب بچے اس کے گرد جمع ہوتے ہیں تو وہ ان کا دوست بن جاتا ہے۔‘

ان کی خواہش ہے کہ مزید لوگ ان کی سکیم کے لیے کتابوں کا عطیہ دیں۔ ’بچوں کو یہاں کامک کتابیں اور کہانیوں والی کتابیں بہت پسند ہیں۔‘

’اس کے برعکس بڑوں میں حوصلہ افزائی کرنے والی یا یہ کام کس طرح کیا جائے جیسی کتابوں کی زیادہ مانگ ہے۔‘

سروری کا خواب ہے کہ ایک دن ان کا اپنا کداپستاکاگھوڑا اور ایک حقیقی لائبریری ہو۔

اسی بارے میں