ووٹنگ ختم،انتخابی جائزوں کےمطابق کنزویٹو پارٹی آگے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملک بھر میں پانچ کروڑ ووٹرز کے لیے 50 ہزار کے قریب پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں

انتخابی جائزوں کے مطابق جمعرات کے روز ہونے انتخابات میں برطانیہ کی کنزویٹو پارٹی کو دوسری جماعتوں پر برتری حاصل ہے۔

برطانیہ میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں لاکھوں افراد جمعرات کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

ووٹنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوا ہے اور بغیر کسی وقفے کے رات دس بجے تک جاری رہا۔

برطانوی الیکشن میں اہم جماعتیں کون سی اور اہم مسائل کیا ہیں؟ قندیل شام کی رپورٹ

اس الیکشن میں اندازاً پانچ کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جن کے لیے ملک بھر میں 50 ہزار کے قریب پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں۔

برطانوی عوام ان انتخابات میں دارالعوام کے 650 ارکان کو چُنیں گے اور یہ پہلا موقع ہے کہ برطانیہ میں عوام آن لائن ووٹ ڈالنے کے لیے بھی رجسٹر ہوئے ہیں۔

پوسٹل بیلٹ کے ذریعے کچھ ووٹ پہلے ہی ڈالے جا چکے ہیں۔ 2010 کے انتخابات میں یہ ووٹ کل ووٹوں کے 15 فیصد کے برابر تھے۔

2010 میں برطانیہ میں عام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 65 فیصد رہی تھی۔

انتخابات میں حصہ لینے والی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔ لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ اور ان کی اہلیہ یورکشائر میں پولنگ سٹیشن گئے۔ کینٹ میں یو کپ کے لیڈر نائجل فراج نے اپنا ووٹ ڈالا۔ گرین پارٹی کی رہنما نیٹلی بینٹ لندن کے پولنگ سٹیشن گئیں۔

لبرل ڈیموکریٹیس کے نک کلیگ نے شیفیلڈ شہر میں اپنا ووٹ ڈالا اور کنزرویٹیو پارٹی کے رہنما اور گذشتہ پانچ سال سے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ڈیوڈ کیمرن نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ سپیلسبری میں ووٹ ڈالا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لبرل ڈیموکریٹس کے رہنما نک کلیگ اور ان کی اہلیہ نے شیفلڈ میں اپنا ووٹ ڈالا

انتخابات کے لیے زیادہ تر پولنگ مراکز سکولوں، سماجی سینٹروں اور گرجا گھروں میں قائم کیے گئے ہیں لیکن کچھ پولنگ مراکز شراب خانوں کے علاوہ لانڈری کی دکانوں اور ایک سکول بس میں بھی بنائے گئے ہیں۔

عام انتخابات کے مکمل نتائج جمعے کی دوپہر تک متوقع ہیں تاہم کچھ نشستوں کے نتائج کا اعلان جمعرات کو رات گئے کیا جا سکتا ہے۔

جمعرات کو عام انتخابات کے علاوہ انگلینڈ میں 279 مقامی کونسلوں کے نو ہزار ارکان کے چناؤ کے لیے بھی ووٹنگ ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ بیڈفرڈ، کوپ لینڈ، لیسٹر، مینز فیلڈ، مڈلزبرو اور ٹوربے میں میئر کا انتخاب بھی ہو گا۔

مقامی ووٹنگ کا مطلب ہے کہ لندن کے علاوہ جہاں مقامی انتخابات نہیں ہو رہے، پورے انگلینڈ میں تقریباً تمام ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں کے اندر کم از کم دو بیلٹ پیپر دیے جائیں گے۔

کئی ووٹ جمعرات سے پہلے ہی ڈاک کے ذریعے ڈالے جا چکے ہیں جن کی شرح 2010 کے عام انتخابات میں 15 فیصد رہی تھی اور اس وقت کل ٹرن آؤٹ 65 فیصد تھا۔

کچھ نشستوں کے نتائج رات گئے تک متوقع ہیں جب کہ حتمی نتائج جمعے کی دوپہر تک آ جائیں گے۔

پولنگ ویسے تو رات دس بجے بند ہو جائے گی لیکن حکام کا کہنا ہے کہ جو بھی اس وقت پولنگ سٹیشن میں ووٹنگ کے لیے قطار میں موجود ہو گا اسے ووٹ ڈالنے دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption عام انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہم بدھ کو اختتام پذیر ہوئی تھی

عام انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہم بدھ کو اختتام پذیر ہوئی اور سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما ملک کے طول و عرض میں اہم نشستوں پر ان ووٹروں کو قائل کرنے کی کوشش میں مصروف رہے جنھوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔

سیاسی امور کے لیے بی بی سی کے نائب مدیر جیمز لینڈل کا کہنا ہے کہ سیاست دان انتخابی تجزیہ کار اور میڈیا سبھی ان انتخابات کے بارے میں واضح پیشن گوئی کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

برطانیہ کے موجودہ وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو جماعت نے 2010 کے الیکشن میں 307 نشستیں جیتی تھیں۔

گذشتہ الیکشن میں 258 نشستیں جیتنے والی ان کی مخالف لیبر پارٹی ان انتخابات میں بہتر کارکردگی کے لیے پرامید ہے۔

اسی بارے میں