یمن میں امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کا اہم رہنما ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یمن میں امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں جزیرہ نما عرب القاعدہ کے ایک اہم رہنما ناصر بن علي الانسی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک امریکی تنظیم سائٹ انٹیلی جنس نے جزیرہ نما عرب القاعدہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ مکلا میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ناصر علی الانسی اور ان کے بڑے بیٹے ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکہ نے ابھی تک القاعدہ کے رہنما کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ناصر بن الانسی اکثر القاعدہ کی پروپیگنڈا ویڈیوز میں دیکھے جاتے تھے۔ آخری بار انھوں نے ایک ویڈیو میں فرانس کے طنزیہ میگزین چارلی ایبڈو پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ناصر بن علی الانسی نے اپنی ایک اور ویڈیو میں امریکی صحافی لوک سومرز کی حراست اور بعد میں ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

امریکی صحافی لوک سومرز اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والےٹیچر پیئر کورکی اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب امریکی اور یمنی سکیورٹی فورسز نے انھیں بازیاب کرانے کی کوشش کی تھی۔

یمن میں حوثی باغیوں کے صنعا پر قبضہ کرنے کے بعد القاعدہ نے مشرقی صوبے ہدرامت کے دارالحکومت مکلا پر قبضہ کر لیا تھا اور جیل میں بند اپنےساتھیوں کو آزاد کرا لیا تھا۔ البتہ مقامی قبائل نے صرف تین دنوں میں القاعدہ کو مکلا شہر سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔

ایک اور ویڈیو میں ناصر بن علی الانسی نے یمن کے سنی مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ حوثی باغیوں پر حملے کریں جنھوں نے یمن کے بیشتر علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں