دارالعوام کی’سب سے کم عمر رکن‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماری بلیک گلاسگو یونیورسٹی میں سیاست اور پبلک پالیسی کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں

برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں سکاٹ لینڈ سے سکاٹش نیشنل پارٹی نے تاریخی فتح حاصل کرتے ہوئے وہاں سے دارالعوام کی 59 میں سے 56 نشستیں جیت لی ہیں۔

سکاٹ لینڈ کی آزادی کی حامی اس جماعت کے کامیاب امیدواروں میں 20 سالہ ماری بلیک بھی شامل ہیں۔

ماری 350 برس میں برطانوی دارالعوام کی سب سے کم عمر رکن بن گئی ہیں۔

انھوں نے لیبر پارٹی کے سینیئر لیڈر الیگزینڈر ڈگلس کو پیزلي کے حلقے سے شکست دی ہے۔

الیکشن جیتنے کے بعد ماری نے کہا: ’اس حلقے اور پورے سکاٹ لینڈ کی آواز کو اٹھانا ہمارے لیے اس الیکشن کا اہم مسئلہ تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ عہد کرتی ہیں کہ ’ہم نہ صرف سکاٹ لینڈ بلکہ پورے برطانیہ میں اصلاح کی کوشش کریں گے۔‘

فٹ بال اور موسیقی کی شوقین ماری گلاسگو یونیورسٹی میں ’سیاست اور پبلک پالیسی‘ کے شعبے میں زیرِ تعلیم ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2006 میں برطانیہ میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کم سے کم عمر 21 برس سے کم کر کے 18 برس کر دی گئی تھی۔

ماری سے پہلے برطانوی دارالعوام کے کم عمر ترین رکن 13 سالہ سیکنڈ ڈیوک آف ایلبی مارل، کرسٹوفر منك تھے جو 1667 میں ایوانِ زیریں کے رکن بنے تھے۔

اسی بارے میں