عراق میں جیل سے فرار کی کوشش میں 30 قیدی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس واقع کے حوالے سے وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ باہر سے کوئی حملہ نہیں ہوا ہے

عراق کی وزارتِ داخلہ کے مطابق شمال مشرقی بغداد کے علاقے خالص میں ایک جیل توڑنے کے واقعے میں 10 محافظ اور 30 قیدی ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس واقعے میں فرار ہونے والے 50 قیدیوں میں دولتِ اسلامیہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب قیدیوں نے آپس میں لڑنا شروع کیا اور جب محافظوں نے انھیں چھڑانے کی کوشش کی تو انھوں نے ان سے اسلحہ چھین لیا۔

عراق میں جیل توڑنے کے بہت سے واقعات پیش آچکے ہیں لیکن عام طور پر ان وقعات میں شدت پسند اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

تاہم اس واقع کے حوالے سے وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ باہر سے کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔

سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چند قیدیوں نے جیل سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ بھاگنے والوں میں سے نو کو دہشت گردی کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا جن میں دولتِ اسلامیہ کے ارکان بھی شامل ہیں جبکہ دوسرے عام مجرم تھے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جیل کی تصاویر کو دیکھنے کے بعد بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس واقع میں جیل میں قتل عام ہوا ہے۔

عراق کو موجودہ سکیورٹی کے چیلنجوں کا سامنا ہے اور وہ مسلسل دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے جو ملک کے ایک بڑے حصے پر قابض ہیں۔

یاد رہے کہ مغربی بغداد میں سنہ 2013 میں ابو غریب جیل سے 500 سے زائد قیدی فرار ہوئے تھے جن میں زیادہ تعداد شدت پسندوں کی تھی۔

اسی بارے میں